پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر برائے ضم اضلاع شاہی خان شیرانی نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کی جانب سے اعلان کردہ پرامن احتجاجی مارچ اور دھرنے کی حمایت کرتی ہے اور پارٹی کارکنان اس مارچ اور دھرنے میں بھرپور شرکت کریں گے۔27جنوری بروز سوموار ہونیوالے پرامن پیدل مارچ کے مطالبات وہی ہیں جن کی اے این پی ہمیشہ سے نہ صرف حامی رہی ہے بلکہ اب بھی ان مطالبات کو پورا کرنے اور دیگر مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ضم اضلاع کے تمام سٹیک ہولڈرز کا جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بدامنی،بے گھر افراد کی باعزت واپسی،لاپتہ افراد اور گڈطالبان کی دوبارہ منظم ہونے جیسے حساس معاملات پر بحث کی جائیگی۔ شاہی خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں رہنے والے پشتون عرصہ دراز سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہ چکے ہیںلیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وہاں کے عوام اپنے مطالبات منوانے کیلئے مارچ اور دھرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی قربانی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ بغیر کسی احتجاج کے ہنگامی بنیادوں پر ان مطالبات کی منظوری کیلئے اقدامات اٹھاتی لیکن وہاں کے عوام کو احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے۔ شاہی خان شیرانی نے کہا کہ آپریشن راہ نجات میں تباہ شدہ مکانات کے معاوضوں کی ادائیگی جلد سے جلد کی جائے، تباہ حال نئے اضلاع کی بحالی کیلئے ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ سروے کے عمل کو سست رکھنے سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، انضمام کے ثمرات عوام کو پہنچانے کیلئے عملی قدامات ابھی تک نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ اے این پی کے صوبائی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ضم اضلاع کے عوام کو انضمام کے عمل سے بدظن کررہی ہے، انتظامیہ اور حکومت عوام کی احساس محرومی ختم کرنے کیلئے مطالبات پر جلد سے جلد عمل کرائیں۔