پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اس ملک میں آج اگر ایک آٗئین اور دستور موجود ہے تو اس کا سارا کریڈٹ صرف اور صرف رہبر تحریک خان عبدالولی خان کو جاتا ہے۔ ولی خان مرحوم نے اپنی اصول پرستی اور سیاست سے ثابت کیا کہ انسان اقتدار حاصل کئے بغیر بھی مقتدر لوگوں سے زیادہ محترم اور معتبر ہو سکتا ہے۔ ولی خان مرحوم کی ایک سو تین ویں یوم ولادت کے موقع پرولی باغ چارسدہ میں پارٹی کارکنان سے خطاب اور ٹوئیٹر پیغامات میں ایمل ولی خان نے کہا کہ ولی خان واحد سیاستدان تھے جن کے ایک ایک لفظ سے سیاسی حکمت عملیاں مرتب کی جاتی تھیں۔ وہ صرف ایک پشتون رہنما نہیں بلکہ ہر پسے ہوئے طبقے اور قوم کی آواز تھے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۱ جنوری وہ دن ہے جس پر برصغیر کے سب سے بڑے اصولی سیاستدان اس دنیا میں آئے تھے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج ہمارے پاس اے این پی کی شکل میں ہمارے عظیم بابا کی پالیسی، نظریہ اور سوچ زندہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ اپنے عظیم رہنما خان عبدالولی خان کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے پشتون قوم کی خدمت سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ولی خان نہ ہوتے تو مشکل تک کہ پاکستان کو ایک متفقہ آئین ملتا،ولی خان خود کہا کرتے تھے کہ 1973کی آئین کی منظوری میں سب سے اہم رول ہمارا ہے،ہم اگر صوبائی خودمختاری کے تعین میں تعاون نہ کرتے تو متفقہ دستور وجود میں نہیں آسکتا تھا،میں نے اُس وقت نیپ کے صدر کے حیثیت سے نیپ کے منشور سے انحراف کرتے ہوئے صوبائی خودمختاری کی وہی حدود تسلیم کرلیے جن کا تعین دستوری مسودے میں کیا گیا تھا۔