چارسدہ (پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہاہے کہ ان ہاوس تبدیلی سے چہروں کی تبدیلی کے علاوہ عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی تکمیل اورالیکشن قوانین واصلاحات اورفوج کے مداخلت کے بغیر انتخابات ضروری ہیں، ادا روں کی مضبوطی اور وقار کیلئے اداروں کو خود کردار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہے 10فیصد عوام کیلئے ایک پاکستان اور 90فیصد کیلئے دوسرا پاکستان لاہور ہائی کورٹ کا حصوصی عدالت سے متعلق فیصلے سے حصوصی عدالت کے دیگر فیصلو ں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے خدائی حدمتگار تحریک کے بانی باچا خان بابا کے پوتے، ممتاز ماہر تعلیم پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر عبدالعلی خان کے صاحبزادے،اے این پی کے رہبر تحریک حان عبدالولی خان کے بھتیجے اور اسفندیار ولی خان کے کزن ذولفقار علی خان کے وفات کے موقع میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ مرحوم ایک اعلی تعلیم یافتہ،شریف النفس او ر نفیس شخصیت تھے۔انہوں نے اعلی خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود انتہائی سادہ اصولو ں پر مبنی زندگی گزاری۔انہوں نے کہاکہ معلوم نہیں کہ موجودہ نااہل حکمران ملک کو کس جانب لے جارہے ہیں اور کہاکہ دنیا جانتی ہے کہ اس حکومت کو اقتدار کس نے دیاحکومتی وزیر کا اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے سے پی ٹی ائی حکومت برقرار رہنے کا جواز نہیں بنتا اورکہاکہ فیصل واڈا نے نجی ٹی وی پر جو ڈرامہ رچایا اس کے پیچھے کوئی اور ہے انہوں نے کہاکہ چونکہ یہ سلیکٹیڈ حکومت ہے اس لئے ان کے تمام پالیسیاں عوام دوست نہیں ہے اورنہ ہی حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے اور کہاکہ اے این پی پا رلیمنٹ کے بالا دستی پر یقین رکھتی ہے اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت بھی وہ اپنے فیصلے پر کھڑی رہی۔ایمل ولی خان نے جنر ل پرویز مشرف کے خلاف حصوصی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ کے طرف سے کالعدم قرار دینے کو حیران کن قرار دیا اور کہاکہ خصوصی عدالت کے دیگر فیصلوں کی کیا حیثیت ہوگی۔