پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صڈر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی کو پختونوں کے وسائل پر پختونوں کے اختیار کے مطالبہکی سزا دی جارہی ہے،2013 میں جب تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑ رہی تھیں اے این پی اس وقت اپنے کارکنوں اور رہنماوں کے جنازے اٹھا رہی تھی، ہمیں جلسوں کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور جہاں ریلی یا جلسہ منقعد کرتے تھے وہاں دھماکہ ہوجاتا تھا۔ اسی طرح 2018 میں بھی ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا۔ضلع کرک کے چار روزہ تنظیمی دورے کے پہلے روز مختلف مقامات پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت جانتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانے کی صورت میں یونین کونسل کی سطح تک حکمران جماعت کا وجود ختم ہوجائے گا، گزشتہ انتخابات بھی صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر کروائے تھے۔حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں، موجودہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ ہے۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ خدائی خدمتگاروں اور باچا خان بابا نے پشتون قوم کو انگریزوں اور نوابوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے اپنی شاہی زندگی قربان کرکے جیلیں،صعوبتیں اور سختیاں برداشت کیے اور ان کے حقوق کیلئے جدوجہد کی تاکہ پختونوں کے وسائل پر انگریزوں اور نوابوں کی بجائے پختونوں کا اختیار ہو۔انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین بناتے وقت ولی خان بابا نے پختونوں کے اختیارکی بات کی لیکن جب پاکستان کے وجود کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو وہ دس سال کے معاہدے پر دستخط بھی کرتے ہیں اور کہتا ہے کہ پاکستان کو بچاؤ۔انہوں نے کہا کہ پختونوں نے عوامی نیشنل پارٹی کو خد مت کا موقع دیا توہماری حکومت نے صوبے کو بااحتیار بنایا اور اور صوبے کو نام دیا۔آج صوبے پر ایسے لوگ مسلط کردیے گئے ہیں کہ اُن کے حوالے سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ تو پختونوں کی حکومت ہے لیکن جب کوئی پختونوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو ان ہی کے ذریعیاُن کی تذلیل کی جاتی ہے اور پوری دنیا میں پختونوں کو بدنام کرایا جاتاہے۔ایمل ولی خان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آٹے کا بحران پیدا ہو تو پنجاب نے خیبرپختونخوا کو آٹے کی سپلائی بند کردی تھی اور غیر معیاری آٹا ہمارے صوبے کے عوام کے لئے بھیجا جاتا ہے، پہلے پنجاب کی ضرورت کو پورا کیا گیا کیونکہ آٹا پنجاب کی پیدوار تھی اسی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا صوبہ بجلی اور گیس پیدا کرتا ہے تو پہلے اپنے صوبے کی ضرورت کو پورا کیا جائے اس کے بعد باقی صوبوں کو ہماراگیس اور بجلی دی جائے، اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کرنے کیلئے ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے جائیں گے لیکن ان سب کے باوجود ہم باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔