پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی میں پاکستان کو ملکی مفاد میں غیرجانبدار کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو ایک اور جنگ سے بچانا ہوگا،افغانستان کے مسئلے پر اے این پی کا موقف تاریخی تھا لیکن ہمارے موقف کو نہیں مانا گیا جس کی وجہ سے پختون خطہ بالخصوص اور پاکستان بالعموم دہشتگردی کا شکار ہوا اور اُس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں،آج بھی اے این پی کا موقف ہے کہ ملکی مفاد میں غیرجانبدار رہتے ہوئے ہمیں ایران امریکہ کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کردار ادا کرنے چاہئے تاکہ کشیدگی کے مضر اثرات سے بھی پاکستان کو بچایا جا سکے۔باچا خان مرکز پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر فرید طوفان کی اے این پی میں دوبارہ شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ جتنی خدمت فرید طوفان نے باچا خان کی کی ہے اتنی خدمت ایک بیٹا بھی اپنے والد کا نہیں کرسکتا،فرید طوفان کی دوبارہ اے این پی میں شمولیت پر دل کی گہرائی سے خوشی محسوس کررہا ہوں،ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ایران کے جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے،یہ کھلم کھلا دہشتگردی ہے اور اے این پی دہشتگردی کے خلاف ہے چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی جس کی طرف سے بھی ہوتی ہو،انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کا بدمعاش بننے کیلئے وہ سب کچھ کررہا ہے جو کسی طور بھی جائز نہیں، امریکہ ایران کشیدگی میں پاکستان کو ملکی مفاد میں غیر جانبدار رہنا ہوگا تاکہ ملک ایک اور جنگ سے بچ جائے،خدانخواستہ اگر ایران امریکہ کی جنگ چھڑتی ہے تو یہ جنگ دنیا کی تیسری جنگ عظیم بھی ہوسکتی ہے۔آرمی ایکٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج آرمی ایکٹ پارلیمنٹ میں چلا گیا ہے،یہ اے این پی کے تاریخی موقف کی جیت ہے،ہمیں یہ نہ کہا جائے کہ ہم اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور پرو اسٹیبلشمنٹ ہیں،اے این پی ہمیشہ اصولی موقف کے ساتھ میدان میں آئی ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ 2018کے انتخابات پر اے این پی کے تحفظات ہیں اور رہیں گے لیکن اگر آج ہر معاملہ پارلیمنٹ میں جارہا ہے تو یہ جمہوریت کی جیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہے،اختیارات پارلیمان کو منتقل کرنے کیلئے جدوجہد ایسی حالت میں بھی جاری رکھنی پڑتی ہے جب جمہوریت ایک برائے نام سی چیز رہ جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی،جمہوریت کی بقاء اور حقیقی جمہوریت کیلئے اے این پی کے مطالبات تاریخی اور مثالی ہیں،یہ اے این پی ہی کے موقف کی جیت ہے کہ آج پارلیمنٹ فوج سے لیکر ہر ادارے کیلئے قانون سازی کررہی ہے،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر عدالت کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کی عکاس ہے،اب یہ پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمانی طریقہ کار کو سامنے رکھ کر موجودہ مسئلے کا حل نکالے۔