پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے دہشت گردی کی جنگ میں پختونوں کے وسائل پر قبضے کیلئے پہلے پختونوں کو مارا گیا اور جب طاقتور حلقوں کا اس پر بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا تو پختونوں کو اپنی قیادت سے بدظن کرنے کیلئے اے این پی پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے،ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ سات سالوں میں اے این پی کے ایک لیڈر پر کرپشن کا کیس نہیں بنا،پختون خواتین کو بھی اب سمجھنا ہوگا کہ یہ جنگ جو ہم پر مسلط کی گئی یہ کفر اور اسلام کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ وسائل اور وسائل پر اپنے اختیار کی جنگ تھی۔ اے این پی یہ جنگ لڑتی چلی آرہی ہے اور آج بھی اگرپارلیمنٹ سے باہر رکھا جارہا ہے یا نشانہ بنایا جارہا ہے تو وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم اپنے وسائل پر اپنے اختیار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔باچاخان مرکز پشاور میں خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ عورتوں کو ہر میدان میں خودمختار بنانے سے ہی معاشرہ ترقی کرے گا، ہماری قوم کا 50فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہیں ان کے بغیر آزادی، تعلیم، اقتصاد اور سیاست سمیت ہر شعبہ ادھورا ہے۔ خدائی خدمتگار تحریک سے لے کر آج تک خواتین ہر میدان میں ثابت کرچکی ہیں کہ وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ ہر میدان میں کھڑی رہیں گی، حالات چاہے جتنے بھی سخت ہو، وہ ہر کھٹن مرحلے کا سامنا خندہ پیشانی سے کررہی ہیں۔ خدائی خدمتگار تحریک میں عورتوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ باچاخان مرد اور عورت کی تفریق پر یقین نہیں رکھتے او رآج ان کے پیروکار بھی اسی فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ12اگست 1948ء کو جب بابڑہ میں گولیاں برسائی جارہی تھیں تو اس وقت بھی خان عبدالولی خان کی زوجہ تاجو بی بی دیگر پشتون خواتین کے ساتھ ملکر مرہم پٹی کرنے میں مصروف تھیں۔ اسکے بعد جب پشتون لیڈرشپ کو گرفتار کیا گیا تو بیگم نسیم ولی خان نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور پورے صوبے کے پشتونوں کی قیادت کی۔ آج بھی اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی گئی تو اس میں خواتین صف اول میں کھڑی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کی عورتیں مردوں کے ساتھ کھڑی رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب شہید امن بشیر بلور کو شہید کیا گیا تو ان کی زوجہ محترمہ نے وصیت کے مطابق چہرہ دیکھنے سے پہلے پوچھ لیا کہ پہلے انہیں بتایا جائے کہ بشیر بلور شہید کو کہیں پیٹھ پر گولی تو نہیں ماری گئی، اسی حوصلے کو سلام پیش کرنے کیلئے آج باچاخان مرکز میں پورے صوبے کے خواتین کو اکھٹا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں ہارون بلور کو شہید کیا گیا تو انکے مشن کو آج بھی ثمرہارون بلور آگے لے کر سیاسی میدان میں کھڑی ہیں۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں عورتوں کو نشانہ بنایا گیا، ڈاکٹر گلالئی کو بھی اسلئے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اسفندیارولی خان کی بہن تھیں۔ آج بھی ہماری عورتوں کے حوصلے بلند ہیں اور ہمیں فخر ہیں کہ خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی جنس کی بنیاد پر سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور آج بھی پارٹی کے اندر خواتین کا الگ ونگ نہیں۔