پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع کے مسائل کے حل کیلئے ہمیں جرگوں سے بھی ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا،تمام سیاسی جماعتوں اور پختونوں کے قومی تحریکوں کو دعوت دیتا ہوں کہ نئے ضم شدہ اضلاع کے حل کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو نئے ضم شدہ اضلاع کے دورے کرکے وہاں پر زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے فیصلے کریں کہ پختونوں کو ان مسائل سے کس طرح نکالا جائیں۔باچا خان مرکز پشاور میں نئے ضم شدہ اضلاع کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ انضمام سے پہلے نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام سے جو وعدے کیے گئے تھے وہ تاحال پورے نہیں کیے جاسکیں،ہمیں ان مطالبات کے حل کیلئے ریت کی بوری کے پیچھے کھڑی طاقتوں اور قوتوں سے رجوع کرنا پڑے گا لیکن اُس کیلئے پختونوں کا اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے،ہم تب ہی اصل قوتوں سے پختونوں کے مسائل کے حل اور وسائل کیلئے بات کرسکتے ہیں جب پختون قوم ایک مٹھی ہو۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے زیر اہتمام جرگہ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی پر صوبائی وزیر اطلاعات کا مشکور ہیں لیکن جرگہ کے خاتمے سے قبل اُن کا جانا حکومتی رویے کے سنجیدگی کا احسا س دلاتی ہے کہ حکومت نئے ضم شدہ اضلاع کی مسائل کی حل میں کس قدر سنجیدہ ہے؟صوبائی وزیراطلاعات نے جرگہ میں اصل مسائل کی نشاندہی کی بجائے جرگہ میں موجود پختونوں اور قبائیلی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی۔انہوں نے کہا کہ اے این پی دور حکومت میں دہشتگردوں کے خلاف سوات کا آپریشن ہوا تھا لیکن اے این پی نے ریکارڈ مدت میں نہ صرف سوات سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا بلکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار سوات کے ٹی ڈی پیز کی گھروں کو واپسی کو بھی یقینی بنایا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ گڈ اور بیڈ کے تفریق سے بالاتر ہوکر ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں اگر دہشتگردوں کو ڈیل دیا جاتا رہا تو نہ ملک باقی رہے گا اور نہ ہی کچھ اور،انہوں نے کہا کہ ہم پختون دھرتی کو ایک اور پراکسی وار کا نشانہ بھی بننے نہیں دینگے اور اس کیلئے ہر وہ جدوجہد کریں گے جو ممکن ہو۔