پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پختونخوا کے عوام نے2018 کے الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی پر اعتماد کیا تھا لیکن پنجاب سے بلائے گئے فوجی جوانوں نے پولنگ سٹیشنوں کو یرغمال بنا کراے این پی کے جیت کو ہار میں تبدیل کردیا تھا۔سلیکٹڈ اعظم جھوٹ کی بوری ہے اسکو اخلاقی طور پر مستعفی ہونا چاہیے”اب نہیں تو کب، ہم نہیں تو کون؟“ کانعریٰ لگانے والوں نے مہنگائی،بیروزگاری اور ملک میں بنے افراتفری سے ثابت کردیا ہے کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔صوبائی صدر ایمل ولی خان کے چار روزہ تنظیمی دورے کے آخری روز مختلف مقامات پت خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ بجلی اور گیس جس صوبے میں پیدا ہوگی اس کے استعمال اور رائلٹی پر اُسی صوبے کا حق ہے لیکن بدقسمتی سے پختونخوا کے بجلی اور گیس پر پختونخوا کے باسیوں کو اختیار نہیں دیا جارہا۔عوامی نیشنل پارٹی اس صوبے کے وسائل پر اختیار کی بات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماربل بھی پختونخوا میں پیدا ہورہاہے، بجلی بھی پختونخو ا کی ہے، مزدور بھی پشتون ہے لیکن فیکٹریاں پنجاب میں لگائی گئی ہیں، جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ فیکٹریاں بھی پختونخوا میں لگائی جائے تو ہم پر انڈیا، افغانستان اور روس کے ایجنٹ اور غداری کے ٹھاپے لگائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 6000میگاواٹ بجلی پختونخوا میں پیدا ہورہی ہے اور سب سے بڑا بجلی گھر لاہور میں بنایا گیا ہے، گزشتہ حکومت میں اس صوبے سے 40ارب کا آئل چوری کیا گیا ہے اور اب بھی چوری ہورہا ہے، ہم اسکے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔سردارحسین بابک نے کہا کہ 45سال سے پشتونوں کو جنگ کا ایندھن بنایاگیا ہے، یہاں جنگ ایک کاروبارہے، اس میں بہت سے لوگوں کا حصہ اور منافع ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس لئے نشانے پر ہے کہ جنگی اقتصاد کے روکنے کی بات کررہی ہے۔پشتون قوم کو عوامی نیشنل پارٹی پر اعتماد کرنا ہوگا اور اتفاق و اتحاد کے ذریعے اس جنگی اقتصاد کو شکست دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے مسجدوں میں ایک بار پھر اسلامی ریاست کے نام پر طالبان چندے اکھٹے کررہے ہیں،اور حکومت دنیا کو دہشتگردی کی مخالفت کی یقین دہانیاں کروا رہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گڈ اور بیڈ طالبان کے خلاف بلا تفریق کاروائی ہونی چاہیے۔سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت میں افراتفری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ آرمی پبلک سکول میں سینکڑوں بے گناہ بچوں کو مارنے والا بھاگ جاتا ہے لیکن حکومت وقت ہفتوں ہفتوں اس پوزیشن میں نہیں ہوتی کہ وہ وضاحت کریں کہ احسان اللہ احسان کیسے اور کس مقصد کیلئے بھاگ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے یونیورسٹیوں کو تعلیمی بحران سے دوچار کیا گیا ہے اور ہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کوپنجاب سے لایا گیا ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری انہی پنجابی وی سیز پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر صوبائی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر کرپشن کے الزامات لگانے والے بتائیں کہ آج تک ہمارے خلاف وہ ایک کیس کیوں نہیں بنا سکے،سات سال کا عرصہ اور احتساب کمیشن بنانے کے باجود بھی اگر اے این پی کے خلاف کیس نہیں بنا تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ اے این پی پر طاقتور حلقوں نے اپنے عزائم کے حصول کیلئے کرپشن کے الزامات لگائے تھے،ہم اب بھی کہتے ہیں کہ اگر عمران خان میں دم ہے تو اے این پی پر ایک کیس کرکے دکھائیں۔