پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اس ملک میں پشتونوں کیساتھ ایسا سلوک کیا جارہاہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے پشتون اس ملک کے باشندے نہیں، جب پشتون پنجاب میں داخل ہوتا ہے تو ان سے کبھی شناختی کارڈ تو کبھی این او سی مانگا جاتا ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔ ضلع ٹانک میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محسود قبیلے کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ نئے اضلاع میں موبائل سروس معطل ہے، فوجی آپریشنز میں لوگوں کے مکانات اور دوکانوں سمیت تمام کاروباری سرگرمیاں تباہ ہوچکی ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں اور جب یہی پشتون ملک کے دوسرے شہروں میں جا تے ہیں تو ایسا سلوک کیا جاتاہے جیسا کہ یہ اس ملک کے شہری ہی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے رویے سے نہ ملک کو چلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ ملک چل سکتا ہے۔ اس طرح کے رویے ملک کے استحکام کیلئے خطرناک ہے لہذا اس تفریق کو ختم کرنا چاہئے۔اے این پی کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ پشتونوں کو جھنڈوں اور سیاسی پارٹیوں سے بالاتر ہوکر اتحاد کا نعریٰ لگانا ہوگا۔ مشترکہ دشمن کو اتحاد کے بغیر شکست دینا ناممکن ہے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گوڈ اور بیڈ طالبان کی پالیسی کو ختم کرنے ہوگا۔ یہ اچھے برے طالبان کو پشتونوں کو نقصان پہنچانے کیلئے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، اس کے خلاف اٹھنا ہوگا۔سردار حسین بابک کا مزید کہنا تھا کہ تبدیلی سرکار نے ایک کروڑ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کیا ہے، کروڑ نہ سہی دو، دو لاکھ ہی دے دیں لیکن پہلے پشتوں کے تباہ حال گھروں کو آباد کریں اور ان کو روزگار دے دیں۔ انہوں نے ٹانک میں وزیرستان کے متاثرین سے وعدہ کیا کہ جب اگلے دن میں اسمبلی میں جاوں گاتو آپ کے مسائل کا مقدمہ اس انداز سے پیش کروں گا کہ لوگ حیران رہ جائے گے۔انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے لوگ خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے کئی دنوں سے بیٹھے ہیں لیکن حکومت نے اتنی زحمت نہیں کی کہ اسمبلی سے باہر نکل کر پوچھ لیں کہ دھرنا دینے والوں کے مسائل کیا ہیں۔ لیکن یہ بے شرم حکومت ہے انہیں کیا لگے عوام کے مسائل کیا ہے؟کل قومی اسمبلی میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر انہیں شرم آنا چاہیے تھا۔ سرداربابک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم مشترکہ دشمن کیخلاف متحد نہ ہوئے تو اگلے نسلیں ہمیں معاف نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ 10مارچ پر اسفندیارولی خان کے قیادت میں باچاخان مرکز پشاور میں پشتونوں کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہورہا ہے، جس میں پشتونوں کے ہر مکتب فکر کے لوگ شرکت کرینگے اور پشتونوں کے مسائل کے حل کیلئے راستہ نکالیں گے، اس جرگے نے جو راستہ نکالا اس پر ساری قوم عمل کرے گی اور وہ راستہ اپنائے گی۔