نوشہرہ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ مادری زبان تہذیب و تمدن اورکلچر و ثقافت کا خزانہ ہے۔ مادری زبان کے بدولت ہی انسان کا اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔ مادری زبان قوم کو اپنی تاریخ، جغرافیے اور قدرتی وسائل سے جوڑتی ہے اور جو قومیں اپنی زبان سے دوری اختیار کرلیتے ہیں، وہ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر مفلوج ہوجاتے ہیں۔مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے راشد شہید دستکاری سنٹر، پبی (نوشہرہ) میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق کل 6000 زبانوں میں 43 فیصد زبانیں خطرے میں ہیں اور صرف چند سو زبانوں کو تعلیمی و دفتری اور ٹیکنالوجی میں جگہ دی جا چکی ہے جس کی وجہ سے ہر دو ہفتے بعد ایک زبان غائب ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام قدیم اور جدید دور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانا ایک اچھی روایت ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتو زبان کا تعلق ہے دنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پختونوں اور پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی درجنوں نشریاتی اداروں سے اس زبان میں پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنا دیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں پختونخوا کے متعدد زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا تھا اور اس کیلئے نصاب کے بنانے کیلئے ریجنل لینگویجز اتھارٹی بھی بنائی تھی۔ انہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہر دور حکومت میں اس ہزاروں سال پرانی زبان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔ البتہ اسی کی دہائی میں اس وقت کی صوبائی حکومت نے پشتو کو پرائمری درجوں میں ذریعہ تعلیم قرار دیا اور ان علاقوں میں جہاں پشتو مادری زبان تھی ابتدائی جماعتوں کیلئے پشتو میں نصاب تیار کیا لیکن ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل سکول منتظمین نے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مادری زبانوں کی ترویج کیلئے ایک تحریک بنائی جائے اور اقوام متحدہ کے ذیلی امدادی ادارے متعلقہ حکومتوں کو مجبور کریں کہ مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دی جائے کیونکہ آج کے دور میں بھی دنیا کی 40 فیصد آبادی کا اس تعلیم کو پہنچ نہیں ہے جس کی زبان کو وہ سمجھ اور بول سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس تحریک کی سرگرمیاں تعلیمی اداروں تک پھیلائی جائیں اور ٹی وی و اخبارات کے اشتہارات میں مادری زبانوں کا مناسب کوٹہ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشتو زبان کی ترقی اور استحکام کیلئے ضروری ہے کہ اس کو مارکیٹ کی زبان بنا دی جائے اور اشتہارات سمیت تمام کاروباری معاملات اس زبان کے ساتھ جوڑے جائیں۔