پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشاور کے علاقہ ریگی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی پولیس مقابلوں کا کلچر معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے، پشتونوں کو ایک بار پھر نشانہ بناکر جعلی پولیس مقابلوں میں ماراجارہا ہے جو قابل برداشت نہیں۔باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ پشتونوں کی ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ نہ روکنے سے کیا پیغام دیا جارہا ہے؟پشاور میں جعلی مقابلوں کے دوران شہریوں کی ہلاکت ظلم و بربریت ہے ، اگر نقیب اللہ محسود کیس میں مجرمان کو سزا ملی ہوتی تو آج ایسے واقعات سامنے نہ آئے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر کوئی ملزمہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے تھا ، یہ کہاں کا قانون ہے کہ ایک شخص کو گھر سے اٹھایا جاتا ہے، وہ دہشتگرد قرار پاتا ہے اور پولیس مقابلوں میں مارا جاتا ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر متحرک کارکنوں کو دھمکایا، ڈرایا جاتا ہے جو افسوسناک امر ہے،عوامی نیشنل پارٹی اس قسم کے واقعات پر خاموش نہیں رہے گی۔ سزا دینا پولیس نہیں عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے خلاف جانیوالوں کو سزا دیے بغیر اس قسم کے واقعات کو روکنا ممکن نہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اس جعلی مقابلے کے بعد احتجاجی مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں ، عوام ایک اور رائو انوار برداشت نہیں کرسکتے اور اس ضمن میں عدالتوں سمیت ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے حکمرانوں کی جانب سے خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پر حکمرانوں کی خاموشی انکی نااہلی اور ناکامی کا ثبوت پیش کررہی ہے، واقعے کی شفاف تحقیقات کراکے ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔