پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ جب ملک میں دہشتگردی کا عفریت تھا تو کوئی سیاسی جماعت اس بات کیلئے تیار نہیں تھی کہ وہ دہشتگردوں اور دہشتگردی کے حوالے سے کھل کر بات کرتی،ایک اے این پی تھی جو ہر جگہ اور ہر پلیٹ فارم پر دہشتگردی کی مخالفت کررہی تھی یہی وجہ ہے کہ اے این پی کے ہزاروں کارکن دہشتگردی کے نذر ہوئے،اے این پی کے حوالے سے ایک پروپیگنڈہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اے این پی کے دور حکومت میں بم دھماکے ہورہے تھے ،تو اُن لوگوں بتانا چاہتے ہیں کہ جب ہم حکومت میں آئے تو پورے صوبے کو 2002سے لیکر 2008تک کس نے دہشتگردوں کے رحم وکرم پر چھوڑا تھا؟ملاکنڈ ڈویژن میں نام نہاد طالبان کس نے پال رکھے تھے اور اُن کو اسلحے کی سپلائی کون کررہا تھا؟جب دہشتگرد مضبوط ہورہے تھے تو اُس وقت اے این پی اقتدار میں نہیں تھی۔باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی ضلع پشاور کے سابق صدر میاں مشتاق اور دیگر شہداء کی چھٹی برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ جب اے این پی اقتدار میں آئی تو اے این پی کے پاس دو راستے تھے،ایک وہ راستہ تھا جو اے این پی سے پہلے حکومتوں نے اپنایا تھا کہ ہم دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے دیتے اور دوسرا ہمارے ساتھ دہشتگرں کے صفائی کا راستہ تھا،تاکہ ملک و قوم کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو،ہم نے اپنی جانوں پر کھیل کر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور ملاکنڈ ڈویژن سے اُن کا صفایا کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مذہبی جماعتوں کا کردار بھی سب کے سامنے ہے،بوسنیا میں اگر ایک مسلمان مر جاتا جو کہ ہمارا بھی غم تھا اُس کے خلاف پاکستان میں سیاست کرنے الے مذہبی رہنماء سڑکوں پر نکل آتے لیکن پختونخوا کے مساجد میں بھی دھماکوں پر ان مذہبی رہنماوں نے چھپ کا روزہ رکھا ہوا تھا،اگر ہم بھی دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے دیتے تو ہمیں بھی کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن ہم نے دہشتگردوں کے خلاف عملی جدوجہد کی اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔سردار حسین بابک نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں ہے،آج اے این پی شہید بشیر بلور جو کہ پاکستان کے شہداء کا سرخیل ہے اُس کی برسی کیلئے نشتر ہال بُک کراتی ہے تو ڈر کے مارے صوبائی حکومت بشیر بلور کو شہید کرنے والوں کی ڈر سے نشتر ہال بھی ہمیں کرائے پر نہیں دیتی ،ہم کیسے مان لیں کہ یہ ریاست دہشتگردی کے خلاف ہے؟ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی ریاست پاکستان اس میں ناکام ہے کہ وہ اس ریاست کو سکول اور مسجد کو بچا سکیں،اس ریاست کے تاجر کو بچا سکیں،ہم برملا کہتے ہیں کہ اگر ریاست چاہے تو اس ملک سے دہشتگردی کے عفریت کا صفایا ہوسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس ریاست کو وہ چہرے پسند ہی نہیں ہے جو اصل معنوں میں دہشتگردی کو جڑ سے اکاڑ پھینکنا چاہتے ہیں