پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ آج صوبے پر ایسے لوگ مسلط کردیے گئے ہیں جو پختونوں کے تذلیل کا سبب بن رہے ہیں،پختونوں پر مسلط کیا گیا کٹھ پتلی حکومت وفاق سے اپنے حق کیلئے بات کرنے کی جرات بھی نہیں رکھتا، جب سیلکٹڈاعظم کہتا ہے کہ پختونخوا کو بجلی رائیلٹی نہیں ملی گی تو اس شگوفے پر بھی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ پختونوں کے سرزمین پر بیٹھ کر تالیاں بجاتا ہے۔ضلع کرک کے چار روزہ تنظیمی دورے کے تیسرے روز وکلاء برادری اور تاجر تنظیموں سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا عمران خان کی شکل میں اسٹیبلیشمنٹ پشتونوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے،پشتون قوم کے وسائل سے غیروں کا قبضہ چھڑانے کیلئے پختونوں کو متحد ہونا ہوگا، ہمارے تحریک نے روز اول سے چھوٹے قومیتوں کی آزادی اوراُن کے وسائل پر اُن کے اختیار کیلئے آواز اُٹھائی ہے،اے این پی نے اپنے دور حکومت میں پختونوں کو شناخت کے ساتھ وسائل پر اختیار بھی دیا،اے این پی دور حکومت میں کرک جیسے پسماندہ ضلع میں بھی یونیورسٹی اور کالجز بنے،ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ آج مسلط کیے گئے حکومت کے دور میں کرک کو نہ گیس کی رائلٹی دی جارہی ہے اور نہ ان کے وسائل پر ان کا حق دیا جارہاہے،اے این پی مطالبہ کرتی کرتی ہے کہ کرک کے رائیلٹی کو پندرہ فیصد کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ؎پہلے ہمارے صوبے کے ضرورت کو پورا کیا جائے اس کے بعد باقی صوبوں کو ہماراگیس اور بجلی دی جائے،اگر پنجاب ہمیں گندم اسی فارمولے کے تحت دے سکتا ہے تو یہی فارمولا بجلی اور گیس کیلئے کیوں نہیں بن سکتا؟اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کرنے کیلئے ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے جائیں گے لیکن اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے، اے این پی کو پختونوں کے وسائل پر پختونوں کے اختیار کے مطالبہ پر سزا دی جارہی ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ پختون جنت کی طرح مٹی پر بھی بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اے این پی پختون قوم کے اختیارات پر پختونوں کے اختیار پر یقین رکھتی ہے۔پختونوں کے عدم اتحاد کی وجہ سے آج پختون کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔