مردان (پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ جعلی وزیر اعظم کا جانا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی نہیں پورے پاکستان کی ضرورت بن چکی ہے، سلیکٹرز قوم کو جواب دیں کہ کٹھ پتلی حکمرانوں کو قوم پر مسلط کر کے تباہی کے سوا کیا ملا؟

مردان میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ جعلی حکمرانوں نے پاکستان کی معیشت کو ڈبو دیا ہے، ناکام معاشی پالیسیوں کی بدولت سلیکٹڈ حکومت نے پاکستان کے بیرونی قرضے میں14ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا، ملک کو آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے عوام کو مہنگی گیس ، بجلی، تیل، چینی اور آٹا خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے، بیروزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور پورے ملک میں بدامنی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کی نااہلی کی بدولت خیبر پختونخوا کے عوام اپنے آئینی حقوق سے محروم ہے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جارہا ہے، نئے پاکستان کے دعویداروں نے صوبے کا خزانہ خالی کردیا ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، آٹھ سال میں پشاور میں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ایک بی آر ٹی بنائی لیکن آج صورتحال یہ ہے اس میں لوگ سفر کرنے کی بجائے اس کو دھکیں دینے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر موجودہ حکمران پاکستان کی جگ ہنسائی اور رسوائی کا باعث بن رہے ہیں، خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہوکر رہ گیا ہے، حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان کے ہر شعبہ کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں اور تاجر، مزدور، ڈاکٹر، اساتذہ، طالبعلم سمیت ہر شعبہ کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور اس سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیجنا اور از سر نو مداخلت سے پاک اور شفاف انتخابات کا مطالبہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ پورا پاکستان چیخ رہا ہے کہ یہ سلیکٹڈ حکمران ہیں اور ان کا جانا اٹل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پاکستان کو تباہی سے بچانے کے لئے نکلی ہیں اور سلیکٹڈ حکومت چاہے جتنا بھی زور لگائے یہ سفر رکے گا نہیں، ملک بھرمیں جلسوں کے بعد یہ مشترکہ سفر کا دوسرا مرحلہ ہے ، فیصلہ کن مرحلہ ابھی باقی ہے، احتجاجی ریلیوں کے بعد پی ڈی ایم نے اسلام آباد کا رخ کرنا ہے اور اس سلیکٹڈ حکومت کو رخصت کر کے ہی آنا ہے۔