پشاور (پ ر) اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ انتہاء پسندی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، آئے روز قانون اپنے ہاتھ میں لینا ایک معمول بن گیا ہے، قانون کی مکمل عملداری انتہاء پسندی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیرستان میں ذاتی اور علاقائی مسائل کو جواز بنا کر گھروں کوجلانا قابل افسوس ہے، پختون معاشرے میں تنازعات اور مسائل کا حل عدم تشدد میں مضمر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے مذہبی مقامات پر حملہ آور ہونا اور جلانا مذہبی منافرت کو فروغ دینے کے مترادف ہے، پختون علاقوں میں ہمیشہ تشدد کیلئے انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت کا سہارا لیا گیا ہے، اتنی تباہی وبربادی کے باوجود بھی پختون دُشمنوں کا آلہ کار بننا حیران کن ہے۔ پختونوں کو اپنے آس پاس نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ پختون دُشمن عنا صر اپنے مذموم ارادوں میں دوبارہ کامیاب نہ ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ پختونوں کو ورغلا کر تشددآمیز اقدامات پر اکسانے والے پختونوں کو مزید پسما ندگی میں دھکیلنا چاہتے ہیں، انتہا پسند عناصر، مذہبی تعلیمات کی غلط تشریح کر کے پختون سر زمین پر لگی آگ کو مزید بھڑکانے کے درپے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پختون من حیث القوم امن پسند، مذہبی رواداری کے قائل آئین اور قانون پر عمل کر نے والے لوگ ہیں لیکن چند شرپسند پختون دُشمن عناصر طر ح طرح کے واردات کے ذریعے پختونوں کی تباہی کے درپے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پختون علما ئےحق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طر ح کے افسوسناک واقعات پر قوم کی رہنمائی کریں تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے ۔