پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بورڈ کے مستعفی ہونے کی آڑ میں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اصل ذمہ داروں کو بچانا چاہتی ہے اور بورڈ کی تعیناتی میں اپنی اقرباپروری، بدنیتی اور نااہلی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، اصل داستان بورڈ آف گورنرز کی مکمل تحقیقات کروانے سے سامنے آئے گی ۔

باچا خان مرکز پشاور میں مسیحی برادری کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی آکسیجن کی کمی کے باعث 6 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی تحقیقات کے لئے بااختیار عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، جوخیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ کے ممبران کی تعیناتی کے عمل سے لے کر اس کی گزشتہ کارکردگی پر بھی نظر ڈالے اور کے ٹی ایچ ہسپتال سانحے میں بورڈ کی ذمہ داری کا تعین کرے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن حقائق کی تحقیقات کرے گی کہ بورڈ آف گورنرزکے ایک باضمیر رکن نے سال کے اوائل میں استعفی کیوں دیا تھا اور اسکے استعفی کے خط پر متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کیا کاروائی عمل میں لائی گئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے تمام بورڈ ممبران حکمران جماعت کے منظور نظر یا عہدیدار ہیں جو مکمل ناکام ہوچکے ہیں، تمام بورڈز کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے اور تحقیقات کا آغاز وزیر اعظم کے مشیر صحت فیصل سلطان اور نوشیروان برکی سے کیا جائے، کے ٹی ایچ کا واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ تبدیلی سرکارکی جانب سے صحت کے میدان میں تمام بلند و بانگ دعوے جھوٹ اور پروپیگنڈا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کو ہدایت کی ہے کہ صوبائی اسمبلی میں ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث چھ افراد کے قتل کی ہائیکورٹ سے عدالتی تحقیقات کے لئے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے صلاح مشورہ کریں اور قرارداد لانے پر غور کریں، بورڈ اور حکومتی نااہلی اور ذمہ داری کی تحقیقات لازم ہیں، اے این پی اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی۔

مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک باد دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ کرسمس کا بنیادی مقصد محبت، امن، دوستی اور بھائی چارے کا پیغام ہے ،مذہب کبھی نفرت یا انتشار کی طرف نہیں لے کر جاتا بلکہ مذہب امن، اتحاد اور محبت کا پیغام دیتے ہیں، جو لوگ مذہب کو ڈھال بناکر لوگوں کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتے ہیں کسی بھی طور پر ہمارے خیر خواہ نہیں ۔تمام آسمانی مذاہب نے ہمیں محبت اور دوستی کا درس دیا ہے اورتمام مذہبی اقلیتوں کا احترام سب پر لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اقلیتی برادری بھی مشکلات کا شکار ہے ، لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔موجودہ حکومت ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے اور ان کی مشکلات دور کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافہ کر رہی ہے