پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے ساتھ پولیس کی جانب سے روا رکھا جانیوالے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا سلوک پارلیمنٹ، آئین اور اظہار رائے کی توہین ہے۔ ایک رکن قومی اسمبلی کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے یہ پارلیمنٹ کی بے توقیری ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری مذمتی بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، کوئی غصب نہیں کرسکتا۔یہ عمل پارلیمنٹ ، آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کے خلاف عمل ہے جسکی مذمت کرتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔عوام کی حکمرانی اور رائے کا احترام جمہوریت ہے جو بدقسمتی سے نظر نہیں آرہی۔اگر کوئی ملزم ہے تو قانونی راستے اپنائے جاسکتے ہیں کیا ایک رکن اسمبلی کو اسطرح گرفتار کرنا قانون ہے؟

ایمل ولی خان نے کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے عوام کا قانون ، قانون نافذکرنیوالے اداروں پر سے اعتماد ختم ہورہا ہے۔اس قسم کے اقدامات سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، حکومت ہوش کے ناخن لیں۔اس وقت ملک کو اندرونی و بیرونی مشکلات کا سامنا ہے اور ایسے اقدامات مزید مشکلات پیدا کرے گی۔ایک طرف کرونا وبا اور دوسری جانب سیاسی عدم استحکام ملک کی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ ایسے حالات میں اس قسم کے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں، پشتون محبت چاہتے ہیں۔پشتونوں کے ساتھ محبت کا رویہ اپنایا جائے، یہ دہشتگردی کی ماری ہوئی قوم ہے۔پشتونوں کے ساتھ شفقت کا مظاہرہ کیا جائے نہ کہ انہیں مزید مشکلات میں مبتلا کرکے نفرت میں اضافہ کیا جائے۔یہ ایک دردمند قوم ہے، دہشتگردی میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے پشتون ہی ہیں۔یہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام اقوام اور بالخصوص پشتونوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے۔