پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ بجلی لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج نے صوبے کے عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ محکمہ کی نااہلی اور حکومتی غیرسنجیدگی نے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ ملک میں سب سے سستی بجلی پیدا کرنیوالے صوبے کے ساتھ زیادتی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ ایک منظم کوشش اور سازش کے تحت ہمارے صوبے کے بوسیدہ ٹرانسمشن لائنز کی مرمت نہیں کی جارہی۔ ایک عرصہ سے بوسیدہ ٹرانسمشن لائنز کی وجہ سے عام صارفین مشکلات کا شکار اور صوبے کے تقریباً تمام کارخانے بند پڑے ہیں۔

سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے باوجود ہم اس صوبے کے عوام کو مہنگی بجلی فروخت کی جارہی ہے، بجلی کا خالص منافع نہیں دیا جارہا، صوبے کے اوورلوڈ فیڈرز اور گرڈ سٹیشن کی وجہ سے بجلی کی ترسیل میں تعطل معمول بن گیا ہے اور صوبے کے عوام صبح شام احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔ صوبے کے ساتھ ماورائے آئین سلوک رکھا گیا ہے، صوبے کے عوام حکومت کی ناانصافی پر خاموش نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ واپڈا میں ملازمین کی بھرتی ہنگامی اور فوری طور پر عملی میں لائی جائیں ۔ 6000میگاواٹ بجلی پیدا کرنیوالا صوبہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے، ہماری بجلی پر ملک کے دیگر صوبوں کے کارخانے چل رہے ہیں لیکن غریب پختونوں کے عام استعمال کیلئے بجلی میسر نہیں۔ صوبے کے ساتھ ہونیوالی زیادتی ملک کی کمزوری اور بدنامی کا باعث بن رہی ہے، اے این پی اس زیادتی پر خاموش نہیں رہی ہے اور نہ آئندہ رہے گی۔

سردارحسین بابک نے کہا کہ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کو بجلی بند کرنے نکلیں، ہمارے وسائل پر ملک کے آئین نے ہمیں حق اور منافع کی ضمانت دی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کو ممکن بنانے کیلئے ہر فورم پر جدوجہد کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ گرمیوں جاگ جاتا ہے اور سردیوں میں کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جسکی وجہ سے صوبے کے عوام گرمیوں میں بجلی نہ ہونے سے عذاب میں پھنس جاتے ہیں۔ اے این پی بجلی کے حوالے سے صوبے کے مسائل کے حل کیلئے تب تک جدوجہد جاری رکھ گی جب تک یہ مسائل حل نہ ہو۔