پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور بی آر ٹی بارے پی ٹی آئی حکومت دعوے کررہی ہے کہ یہ مکمل ہوچکا ہے اب تحقیقات ہونی چاہیے کہ چھ مہینے میں مکمل ہونیوالا منصوبہ تین سال تک کیوں مکمل نہ ہوسکا۔ اب بھی بی آر ٹی منصوبہ مکمل نہیں لیکن عمران خان کو افتتاح کیلئے بلایا گیا۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی درخواست کی ہے کہ کرپشن تحقیقات پر جو حکم امتناعی جاری کی گئی تھی اسے ختم کرکے آزاد اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ اگر چہ منصوبہ نامکمل ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت دعوی کرچکی ہے کہ اسکا افتتاح کردیا گیا ہے اسلئے اب یہ بہانا ختم ہوگیا کہ تحقیقات سے منصوبے پر کام کا سلسلہ رک جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کے آنکھوں میں دھول جھونک کر نامکمل بی آر ٹی پر شادیانے بجارہی ہے۔ صوبائی حکومت نے اپنے ہی وزیراعظم کو ماموں بنا کر نامکمل بی آر ٹی کا افتتاح کروایا۔ اسکے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تحقیقات کرائی جائیں کہ پی سی ون کی منظوری کے بعد بھی 22 تبدیلیاں کیوں کی گئیں؟ یہ نااہلی کی انتہا ہے کہ ایک منصوبے کے درمیان میں پتہ چل جاتا ہے کہ دو بسیں ایک ساتھ نہیں گزرسکتی۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اس منصوبے میں دو سٹیشنوں کا اضافہ کیا گیا جو موجودہ وزیرخزانہ کے حلقے میں آتے ہیں۔ ان سٹیشنوں سے بی آر ٹی کی لاگت دو گنا ہوگیا، اس بات کی بھی تحقیقات کرائی جائیں کہ یہ فیصلہ کس نے اور کن بنیادوں پر کیا۔اسکے علاوہ اس منصوبے کیلئے کتنا قرض لیا گیا؟ کس سے لیا گیا اور کن شرائط پر لیا گیا؟ یہ تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرضوں بارے تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں کہ اس پر سود کی شرح کیا تھی اور کب یہ قرضہ واپس کیا جائیگا؟ پشاور بی آر ٹی کیلئے 184ملین روپے کے پشاور بیوٹیفیکیشن منصوبے کو ختم کیا گیا، کیا عوام کے پیسے ایسے ہی ضائع ہوتے رہیں گے؟

ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ اس کی بھی تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ یہ منصوبہ سراسر پیسوں کے حصول اور کسی کو نوازنے کیلئے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے ذریعے پی ٹی آئی نے 2018ء کے انتخابات کیلئے پیسہ جمع کیا۔ بی آر ٹی دراصل اس صوبے کیلئے معاشی تباہی ہے، کپتان کی عادت یہ ہے کہ ہمیشہ نامکمل منصوبوں پر تختیاں لگاتے ہیں۔