پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے انکوائری رپورٹ کا کریڈٹ لینا اپنی ناکامی چھپانے کے برابر ہے، اس رپورٹ کے مندرجات پہلے ہی میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچادیے گئے تھے۔ نیازی صاحب کو تو یہ تک بتایا گیا تھا کہ اس رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام ہی نہیں، حالانکہ سب سے بڑے چینی چور وہی دو لوگ ثابت ہوچکے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ عمران خان کو جھوٹ بولا گیا یا انہیں کچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔جہانگیر ترین کے خلاف جو کارروائی کی جارہی ہے، تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ایک بار پھر انہیں بچانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان شخص اپوزیشن میں رہتے ہوئے کیا کچھ دعوے کرچکا تھا، آج جب انکوائری رپورٹ میں عدالت سے نااہل قرار دیے گئے شخص کو چینی چور قرار دیا جارہا ہے تو فرانزک رپورٹ کے بعد کارروائی کے بہانے ڈھونڈے جارہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آصف علی زرداری، شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی اور دیگر اپوزیشن اراکین کو بھی فرانزک رپورٹ آنے کے بعد گرفتار کیا گیا؟ نیب کہاں سو گیا ہے؟ کیا چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے انہیں کسی ”طاقتور” کی اجازت درکار ہوگی؟ میاں افتخارحسین نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس رپورٹ پبلک کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کیونکہ یہ رپورٹ انہیں بہت پہلے دیا گیا تھا، اب عوام کی توجہ موجودہ حالات میں ہٹانے کیلئے رپورٹ کو مجبوراً پبلک کرنا پڑا کیونکہ عوام اس رپورٹ کے مندرجات بہت پہلے جان چکے تھے۔ اپنوں کو بچانے کیلئے خان صاحب شاید کسی اور بہانے کے تلاش میں ہیں۔رپورٹ پبلک کرنے کا کریڈٹ لینے کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اس وقت ملک میں جاری ہیجانی کیفیت کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو وزیراعظم کی کرسی کے دائیں اور بائیں طرف بیٹھے نظر آرہے ہیں، اقتدار کے نشے میں مست حکمران عوام بھول چکے ہیں،ملک میں کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے بجائے حکومتی اراکین کریڈٹ اور سیاسی کا گیم کھیلنے میں مصروف ہیں۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے یہ مطالبہ دہرایا کہ بلاامتیاز احتساب کا عمل ایک ڈرامہ بن چکا ہے، اگر واقعی احتساب کرنی ہے تو نیب کو سب سے پہلے بی آر ٹی، مالم جبہ، تنگی مائنز اور اب آٹا چینی چوروں کے خلاف بلاتاخیرکارروائی کی جائے۔