پشاور (پ ر) اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے اور خصوصاً سوات میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے،سوات میں کھلے عام ٹارگٹ کلنگ جاری ہے جبکہ بھتہ خوری عروج پر ہے۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ سوات میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور ضلع کے تمام صاحب الرائے مشران اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو دھمکی آمیز فون آرہے ہیں،جبکہ صوبائی حکومت اور ذمہ دار ادارے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ ضلع سوات سے تقریباً ہر سیاسی جماعت کے مقامی رہنما دوسری جگہوں پر منتقل ہوگئے ہیں اور انہیں مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اے این پی کے رہنما نے کہا کہ اس تشویشناک صورتحال میں صوبائی حکومت تماشہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ ہر جگہ سیکورٹی فورسز کے ناکوں اور حصار کی موجودگی میں کس طرح یہ ٹارگٹ کلرز اتنی آسانی سے بے گناہ لوگوں کو ٹارگٹ اور نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوات نے خصوصاً دہشت گردی کی اس جنگ میں بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے،تاحال وہاں کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ امن اور سکون کے لئے ترس گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سوات کی تمام تحصیلوں کے عوام بار بار حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔انہوں نے کہا کہ بونیر میں پچھلے ایک سال سے دہشت گردوں نے کروڑوں روپیہ بھتہ وصول کیا اور تاحال اس مذموم کوشش میں لگے ہیں۔ کاروباری اور سفید پوش لوگوں کو دھمکیاں دے کر بھتہ وصولی کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے اور خوف و ہراس کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا پر بھی یہ افسوسناک واقعات اسی طرح منظرعام پر نہیں آرہے جس طرح ان کو آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں مخبر سرکاری اداروں کی موجودگی میں دہشت گرد ابھی تک اپنی کارروائیوں میں کیونکر اور کیسے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ عوام حکومت سے پوچھنا اور یہ جاننا چاہتی ہے کہ ان کے جان و مال کو کب تحفظ حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں بھتہ خوری کے عمل نے تجارت پیشہ اور سفید پوش لوگوں کو ذہنی طور پر پریشان کردیا ہے۔