پشاور(پ ر ) اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بیرونی امداد اور قرضوں سے بننے والی سڑکوں میں اپوزیشن کے علاقوں کو نظرانداز کرنے سے گریز کریں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں سردارحسین بابک نے کہا کہ اپوزیشن ممبران صوبے کے لاکھوں عوام کی نمائندگی کررہے ہیں، اپوزیشن ممبران کے حلقوں کو نظرانداز کرنا لاکھوں عوام کی حق تلفی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اپوزیشن ممبران کے علاقوں کے لاکھوں عوام بھی بیرونی قرضے واپس کریںگے اور وہ بھی بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے حقدار اور مستحق ہیں۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ بیرونی ممالک کے ڈونرزاداروں سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیئے کہ صوبائی حکومت بیرونی امداد اور قرضوں کو کس قانون اور قاعدے کے تحت صرف حکومتی ممبران کے علاقوں میں خرچ کرسکتے ہیں۔ صوبائی حکومت اختیارات کا ناجائز استعمال کررہی ہے، حکومت کو صوبے کے اپنے وسائل اور بیرونی امداد اور قرضوں کو صوبے کے تمام علاقوں میں بلاامتیاز خرچ کرنی چاہیئے۔ صوبے کے سارے عوام کی حکومت ہے نہ کہ صرف برسراقتدار پارٹی کے ووٹروں اور سپورٹروں کی۔اے این پی رہنما نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ صوبائی حکومت کے اس امتیازیسلوک، اختیارات کے ناجائز استعمال، قومی دولت کو پسند وناپسند کی بنیاد پر تقسیم اور صوبے کے وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ کر خرچ کرنے کیخلاف سوموٹو ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ سارے دنیا کو انصاف کی بنیاد پر بننے والی حکومت کے ناانصافی اور اقرباء پروری کو آگاہ کریں گے۔ حکومت وسائل کی تقسیم اور بیرونی امداد وقرضوں کی تقسیم میں ناانصافی کرکے قومی مجرم بن گئی ہے۔ انہوں نے امداد اور قرضے دینے والے ممالک اور اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ صوبائی حکومت سے تفصیل مانگیں کہ انہوں نے تقسیم ضرورت کی بنیاد پر یا سیاسی بنیادوں پر کی ہے، اپوزیشن ہر فورم پر اپنے عوام کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی۔ انہوں نے اپنے عوام کو باور کرایا کہ اسمبلی ، عدالت، احتجاجوں اور حتیٰ کہ قرضے اور امداد دینے والے ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے بھی احتجاج ریکارڈ کرائیںگے تاکہ ان ممالک کو بھی پتا چلے کہ صوبے میں اپوزیشن کے علاقوں کے لاکھوں عوام کی حق تلفی ہورہی ہے۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ ان ممالک کے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو خطوط لکھے جائیں گے اور صوبائی حکومت کے ظلم اور ناانصافی سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ عوام کا پیسہ ، صوبے کے تمام عوام پر یکساں خرچ کرنے کیلئے انتہائی اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔