پشاور( پ ر)اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی متاثر ہوچکا ہے، حکومت کو تمام متاثرہ شعبوں کو مزید بحران سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے، حالیہ لاک ڈائون کی وجہ سے کالام کے تمام ٹرانسپورٹرز مالکان مالی بحران کے شکار ہوگئے ہیں۔ سیاحت سے وابستہ ٹرانسپورٹرز اور غریب ڈرائیورز کے گھروں میں چولھے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، سوات سمیت تمام پختون علاقوں میں طالبانائزیشن،سیلابوں اور زلزلے نے سوات اور بالخصوص کالام کے سیاحتی شعبے سے تعلق رکھنے والے مالکان، ٹرانسپورٹرز اور غریب محنت کش طبقے کو کافی متاثر کیا ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ غریب لوگوں نے سیاحت کی غرض سے قسطوں پر گاڑیاں خریدی ہوئی ہیں، حکومت کورونا وباء کے پیش نظر پیدا شدہ صورتحال کو سنجیدہ لیں اور اور ان متاثرہ افراد کے نقصانات کے ازالے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مرکزی حکومت سے صوبے کے آئینی بقایا جات اور باہر دنیا سے کورونا وباء کے سلسلے میں ملنے والی امداد کا مسئلہ اٹھائے کہ اس میں ہمارے صوبے کا حصہ کتنا بنتا ہے۔ صوبائی حکومت اس وقت صوبے کے عوام کی نمائندگی اور وکالت میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہا ہے، نئے اضلاع کے نوجوان کورونا وباء کے باوجود تھری جی، فور جی کی بحالی کیلئے دھرنے دینے پر مجبور ہیں۔ اے این پی کے صوبائی صدر کا مزید کہا تھا کہ حکمران جماعت اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے کئے گئے تمام وعدے بھول چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وزیراعظم سے صوبے کے حقوق اور کورونا وبا کے سلسلے میں ملنے والی امداد کی تفصیل مانگیں۔ اس وقت کمزور اقتصاد اور معیشت کو اٹھانے کیلئے احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔