پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے کی تمام یونیورسٹیاں بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں، حکومت فوری طور پر یونیورسٹیوں کو فنڈز جاری کریں، موجودہ حکومت تعلیم کو ترجیح دینے کی بجائے غیرضروری منصوبوں کو فروغ دے رہی ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیم کی زبوں حالی کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ایک منظم سازش اور کوشش کے ذریعے صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بدنام اور مالی بحران کا شکار کیا گیا ہے۔صوبے کے تقریباً تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر باہر سے لا کر حکومت نے صوبے کے تعلیمی نظام کو کمزور کردیا ہے۔

سردارحسین بابک نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے تعلیمی بجٹ میں کمی لا کر سالانہ ترقیاتی پروگرام سے 800سکولوں کو نکالنا دراصل تعلیم دشمنی کا ثبوت ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ تعلیم موجودہ حکومت کے ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ حکومت کو تعلیم دشمن پالیسی ترک کرنی ہوگی اور صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو فوری طور پر مالی بحران سے نکالنا چاہیے۔ انہوں اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے تمام قائمہ کمیٹیوں کو ختم کردیا گیا ہے اور ایک طرح سے اس وقت صوبائی اسمبلی نامکمل ہے، قائمہ کمیٹیوں کا دروازہ بند کردیا گیا ہے ورنہ صوبے کے تعلیمی اداروں کے مالی بحران کا مسئلہ قائمہ کمیٹی میں ضرور اٹھاتے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ستائے ہوئے صوبے کے ساتھ برسراقتدار جماعت کا رویہ دہشتگردوں سے بھی بدتر ہے۔ حکومت تعلیم دشمن اور عوام دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے، عوام بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ دہشتگرد تعلیمی اداروں کو بموں اور باروس سے تباہ کررہے تھے جبکہ موجودہ حکومت تعلیمی اداروں کو مختلف واردات کے ذریعے بدنام اور مالی طور پر دیوالیہ کرچکی ہے۔ تعلیم کے میدان میں صوبے کو جو نقصان دہشتگردوں نے پہنچایا، اگر اس سے زیادہ نہیں تو اسکے برابر نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ اے این پی برسراقتدار آکر تعلیم کو دوبارہ اولین ترجیح پر رکھے گی اور تعلیم کے فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے