پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم عوامی نیشنل پارٹی کی سابق حکومت کا کارنامہ ہے اور اس کارنامے کے بل بوتے پر چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی ختم ہوئی ہے۔ اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان نے اٹھارویں ترمیم کے دس سال مکمل ہونے پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تاریخی کارنامہ تھا کیونکہ چھوٹے صوبوں میں موجود احساس محرومی کو تقریباً ختم کردیا گیا ہے، باچاخان سے لے کر ولی خان تک اکابرین نے صوبائی خودمختاری اور اپنے وسائل پر اپنے اختیار کے لئے انتھک جدوجہد کی جسے عملی جامہ 2010ء میں پہنایا گیا۔ یہ دن تمام جمہوریت پسند عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے خوشی کا دن ہے جسے بھرپور طریقے سے منایا جانا چاہیے تاہم ملک بھر میں کرونا وائرس وبا کی وجہ سے اسے اس طریقے سے نہیں منایا گیا۔ اسفندیارولی خان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملات میں مداخلت کی کوششیں اب بھی جاری ہیں جو فوری طور پر بند ہونا چاہیے کیونکہ اب اگر پھر انہی روایتی طریقوں سے چھوٹے صوبوں کو اپنے حقوق سے محروم کیا گیا تو اس کا نقصان وفاق کو ہی اٹھانا پڑے گا اور موجودہ وقت میں پاکستان کسی بھی نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑنے کی جو کوشش کررہی ہے، ایسا کوئی عمل آسان نہیں اور نہ ہی ایسا ہونے دیں گے،کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ساتھ نہ صرف پختون قوم کا مستقبل جڑا ہوا ہے بلکہ ملک میں زیادتی کا شکار ہونے والی دیگر قومیتیں بھی متاثر ہونگی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ نویں این ایف سی ایوارڈ کا اجرا بھی جلد از جلد کیا جائے کیونکہ تاخیر غیر آئینی اور فیڈریشن کیلئے نقصان دہ ہے۔ فاٹا انضمام کے بعد بالخصوص خیبرپختونخوا کا حصہ بڑھ گیا ہے اور وفاقی حکومت اپنے وعدے کے مطابق تین فیصد حصہ بھی جلد سے جلد جاری کریں تاکہ حقیقی معنوں میں نئے اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جاسکے۔