پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اس نازک وقت میں اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑ نا ملک دشمنی ہے،صوبوں کی مضبوطی ہی دراصل ملک کی مضبوطی ہے،اٹھارویں آئینی ترمیم میں ردوبدل کی باتیں کرنے والے ملک و قوم کا نہیں اپنے مخصوص مفادات کی ترجمانی کررہے ہیں ۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان ایک بار پہلے مضبوط مرکز کا تجربہ کرچکا ہے،اُس تجربے میں پاکستان موجودہ پاکستان سے بڑا حصہ ہار چکا ہے،اگر اُس وقت اٹھارویں آئینی ترمیم موجود ہوتی،اگر اُس وقت ملک میں آئین ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی بھی بنگلہ دیش نہیں بنتا،پاکستان میں بار بار تجربات کرنے والوں کو ہم متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ خدارا ملک پر رحم کرتے ہوئے ملک کو مضبوط مرکز کا تجربہ گاہ نہ بنائیں ،اگر یہی تجربے ہوتے رہے تو خدشہ ہے کہ اس ملک میں پھر ایک آئین کی بجائے پانچ آئین ہو ۔ اٹھارواں آئینی ترمیم ملک کی سالمتی،اتحاد و اتفاق کا ضامن ہے ۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے نہ صرف صوبوں کو مضبوط اور با اختیار بنایا ہے،بلکہ اس ترمیم نے جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کے راستے بھی بند کردیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی اٹھارویں آئینی ترمیم کو آئین پاکستان کا روح سمجھتی ہے،روح کے بغیر جسم مردہ ہوتا ہے اور روح کے ساتھ چل کر ہی انسان سانس لیں سکتا ہے،اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو یہ ملک کی آئین سے روح نکالنے کے مترادف ہوگا اور اگر ملک کی آئین سے روح نکال لی گئی تو پھر اُس کا جنازہ ہی پڑھایا جائیگا،اُس کا علاج پھر ممکن نہیں ۔