کوئٹہ(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پشتون سٹوڈنٹس کونسل کے فعال رکن ذاہد خان پر طلبا تنظیم کے کارندوں کی جانب سے فائرنگ اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر دوسرے مہینے پشتون اور بلوچ طلبا پر وہاں کی متعصب تنگ نظر انتہاپسند طلبا کی جانب سے حملے ہورہے ہیں، اسلحہ بردار تعلیمی اداروں کے اندر خوف وہراس پھیلارہے ہیں، اب کے بار یہا فسوسناک اور قابل مذمت واقعہ خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہلانے والوں کی جانب سے رونما ہوا ہے جو سب سے بڑھ کر تکلیف دہ عمل ہے دوسری جانب اس ناروا عمل کے برخلاف پشتون کونسل اور بلوچ کونسل نے پرامن احتجاج کیلئے ریلی نکالی تو یونیورسٹی انتظامیہ کی موجودگی میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان پر تشدد کی گئی جو انتہائی قابل گرفت اور قابل مذمت عمل ہے اسلحہ برداروں کو گرفتار کرنے کی بجائے پشتون بلوچ طلبا کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں، حکومت یونیورسٹی انتظامیہ بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے ذمہ داران ان عوامل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے اس امر پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ دراز سے پنجاب بھر کے اداروں میں پشتونوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے، انہیں علم سے دور رکھنے کی منظم منصوبہ بندی کے تحت عملیات سرزد ہو رہے ہیں جس کی عوامی نیشنل پارٹی بھر پور مذمت کرتی ہے انہوں نے کہا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اب کی بار یہ افسوسناک واقعہ پاکستان پیپلزپارٹی کی ذیلی ونگ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے رونما ہواہے جو ماضی کے مقابلے میں اور بھی قابل تشویش عمل ہے پشتونوں پر ملک میں چارسو زندگی تنگ کی جارہی ہے، دہری دہشت گردی کے شکار پشتونوں کو دیوار سے لگا کر حکمران اور پنجاب انہیں کیا پیغام دے رہے ہیں لہذا پنجاب حکومت اوربہاالدین زکریایونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ پشتون اور بلوچ طلبا پر علم کے دروازے بند کرنے جیسے منفی ہتھکنڈوں سے اجتناب برتیں اور گرفتار طلبا کو رہا کرکے ان پر حملہ کرنیوالوں کو فی الفور گرفتار کریں عوامی نیشنل پارٹی اس مسئلے پر کسی صورت خاموش نہیں رہیگی انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماؤں سے اس ناروا عمل کا سختی سے نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا