پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ موجود ہ صوبائی حکومت نے پچھلے ساڑھے چھ سالوں میں پشتونوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی ایک منصوبہ بھی شروع نہیں کیا اور نہ مرکز سے اپنے حقوق کیلئے بات کرسکتی ہے۔ ضلع کرک کے چار روزہ تنظیمی دورے کے دوسرے روز مختلف مقامات پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ دنیا کو بتایا جا تاہے کہ یہاں پر پشتونوں کی حکومت ہے لیکن نہ مرکزی حکومت پشتونوں کو اپنے حقوق دینے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنے عوام کے حقوق کیلئے آواز اٹھا رہی ہے۔اسٹیبلیمشنٹ کو پختونخوا کے حقوق ہڑپ کرنے کیلئے جس طرح کی حکومت چاہیے تھی اُسی راستے پر ہی صوبائی حکومت گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی شکل میں اسٹیبلیشمنٹ پشتونوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، صوبائی حکومت اپنے حقوق کیلئے بات تک نہیں کرسکتی اور ستم ظریفی یہ کہ جب وزیر اعظم عمران خان کہتا ہے کہ خیبر پختونخوا کو بجلی کا منافع نہیں دے سکتے تو ہمارے صوبے کے وزیراعلیٰ اور وزراء ڈائس پر تالیاں بجاتے ہیں۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اے این پی نے ہمیشہ پشتونوں کے حقوق کی بات کی ہے اور پشتونوں کے حق کیلئے آواز اٹھائی ہے، اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تحریک نے شروع سے لیکر آج تک ہر قدم پر اپنی قوم کی آزادی اور اپنے وسائل پر اختیار کیلئے آواز اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب باچا خان نے دیکھا کہ پختون قوم کو غلام بنایا جارہاہے، پشتونوں کی زمین پر پشتونوں کا اختیار نہیں ہے تو انہوں نے اس کیلئے سیاسی جدوجہد کا آغا ز کیا تاکہ پشتون اپنے وسائل پر اختیار حاصل کرسکیں۔ اسی طرح باچا خان بابا نے دنیا سے مقابلے کیلئے تعلیمی نظام کا آغاز کیا تاکہ پشتون قوم دنیا سے مقابلہ کریں اور اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کریں۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ولی خان بابا نے بھی اپنے وسائل پر اپنے اختیار کی بات کی اور ہمیشہ پشتونوں کے حق کیلئے آواز اٹھائی۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت اور ملی مشر اسفندیار ولی خان نے 18 ویں آئینی ترمیم کی شکل میں صوبے کو بااختیار بنا یا اور صوبے کو پہچان دی اور یہی وجہ ہے کہ آج کرک میں یونیورسٹی بھی قائم ہے اور یہاں پر سکولز اور کالجز بھی بنے۔انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارویں آٗینی ترمیم کے بعد اے این پی کے راستے مختلف طریقوں سے روکے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں غدار اور غیروں کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ اس خطے پر جنگ اسلام کی نہیں بلکہ وسائل کی ہے لیکن جب ہم اپنے حق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں انڈیا، امریکہ اور روس کا ایجنٹ قرار دیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل پر پنجاب مزے کررہاہے جبکہ صوبے کے عوام کو اپنے وسائل سے محروم رکھا گیا ہے۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ کرک کو نہ گیس کی رائلٹی دی جارہی ہے اور نہ ان کے وسائل پر ان کا حق دیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے حقوق کو حکومت سے چھیننے اور اپنے وسائل کی جنگ لڑنے کیلئے ہمیں متحد ہونا پڑے گا۔