پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان اور پنجاب یونیورسٹی میں پشتون و بلوچ طلباء پر حملوں، تشدد اور انہیں ہدف بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے صوبوں سے آنیوالے پشتون اور بلوچ طلباء کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، انتظامیہ کے آپس کے تنازعات میں پشتون اور بلوچ طلباء کو نشانے کا حصہ نہ بنایا جائے۔باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر نے مطالبہ کیا ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے یونیورسٹیوں میں سازشوں کو بند کیا جائے، کوٹہ سکیموں کے خاتمے کیلئے شروع کی گئی سازشیں فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی میں پشتون اور بلوچ طلباء پر پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے قاتلانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں، ملتان سٹی انتظامیہ فوری طور پر ملزمان کے خلاف کارروائی کریں۔ تین پشتون طلباء زاہدخان، عطاء اللہ اور فضل آفریدی کو زخمی کیا جاچکا ہے لیکن حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ انتظامیہ کا رویہ افسوسناک اور متعصبانہ ہے۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ملتان میں پشتون اور بلوچ طلباء کو نشانہ بنایا جارہا ہے، انہیں غدار اور دہشت گرد قرار دینا متعصبانہ رویہ ہے جو کسی بھی صورت قبول نہیں۔ پاکستان میں رہنے والے اقوام برابر ہیں اور ہر کسی کو آئینی حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی صوبے میں جاکر تعلیم حاصل کرے یا محنت مزدوری کریں۔ طلباء ہمارا مستقبل ہے اور اپنے مستقبل کے خلاف کسی بھی سازش کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی طلباء کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ مطالبات کیلئے وہ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔