پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام ہماری جیت ہے،جس طرح اے این پی نے 2009۔2010ء میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبرپختونخوا کا نام دیا، فاٹا انضمام کے بعد خیبر بھی ہمارا حصہ بن گیا۔ آج جو لوگ اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہیں وہ پشتونوں کے ترجمان پہلے تھے نہ اب ہیں، انہیں عوام پر مسلط کیا گیا ہے کیونکہ انہی کے دور میں نئے اضلاع میں معدنیات پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ لنڈی کوتل ضلع خیبر میں ممتاز سماجی و سیاسی شخصیت ملک دریا خان آفریدی کی شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام کو اس کا فائدہ ابھی تک نہیں مل سکا۔ ایسا رویہ اپنایا جارہا ہے کہ پشتون متفق نہ ہو۔نئے اضلاع کے معدنیات پر سب سے پہلے حق اس قام کا ہے جہاں یہ معدنیات پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر پہلے بھی ٹینڈرز ہوتے تھے جس میں حکومت کا کردار ٹھیکدار اور اس قام کے درمیان ایک سہولت کار کی حد تک تھا۔ لیکن بدقسمتی یا افسوس کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایسا قانون منظور کیا گیا جس میں ملکیت کا اختیار حکومت کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف ہائیکورٹ جارہے ہیں جس کے لئے اے این پی کے وکلاء ڈرافٹ بناچکے ہیں۔ ہم عوام کا حق عوام کو واپس دلواکر ہی چین سے بیٹھیں گے۔جب عدالت سے سماعت کی تاریخ کا اعلان کیا جائیگا تو صرف وہ نہیں بلکہ ایک عوامی قوت کے ساتھ عدالت جائیں گے اور وہاں بتائیں گے کہ اس مٹی پر سب سے پہلے حق یہاں کے عوام کا ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اقتدار میں ہو یا نہ ہو، ہم اپنے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی ہم حکمرانوں سے عدم تشدد کے ذریعے حق دلاتے رہیں گے۔نئے اضلاع کے خاصہ دار فورسز کی حیثیت بارے ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت خاصہ دار کو جو حیثیت دینا چاہتے ہیں وہ ان اہلکاروں کو قبول ہے اور نہ ہی ہم برداشت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ خاصہ دار اہلکاروں کو پولیس میں ضم کیا جائے اور انہیں باقاعدہ تربیت دی جائے۔ خیبرپختونخوا کے دوسرے اضلاع کی طرح یہاں بھی تعلیم ہی کی بنیاد پر رینکنگ دی جائے۔صوبہ بھر میں بڑے بڑے عہدوں پر انہیں اضلاع کے لوگ بیٹھے ہیں، ان کا تبادلہ یہی کیا جائے تاکہ خاصہ دار اہلکاروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ انکی ملازمتوں کو بھی پولیس ہی کی رینکنگ کے مطابق کی جائے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہہم مقامی افراد کے وسائل اور ملازمتوں پر مقامی افراد ہی کا حق سمجھتے ہیں، ضلع خیبر کے اہلکاروں کا کہیں اور تبادلہ قبول نہیں۔ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ صوبے کے دوسرے اضلاع کی نسبت یہاں توجہ زیادہ دی جاتی لیکن بدقسمتی سے ایسے لوگ مسنداقتدار پر بیٹھے ہیں جو پشتونوں کی ترقی خواہش نہیں بلکہ عوام کا حق ایک خاص ادارے کے جھولی میں ڈالنا ہے۔اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام سے ایک لکیر ختم ہوگئی ہے اور یہی ہمارے اسلاف کی خواہش تھی، اب وہ پشتون علاقے جو بلوچستان کا حصہ ہے، اسے بھی اپنے ساتھ ملا کر ایک ہی صوبہ بنائیں گے۔فاٹا انضمام کی مخالفت کرنیوالوں پر تنقید کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے پشتونوں کے اتفاق پر وہ لوگ بھی ناراض ہیں جو خود کو قوم پرست کہہ رہے ہیں۔ میں یہ واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اگر پشتون ایک ہوجائے تو اصل معنوں میں اس وقت ایک اصل پشتون وزیراعظم آئیگا اور یہاں پر پشتون کے حقوق کی بات ہوگی۔انہوں نے اعلان کیا کہ ضلع خیبر میں جلد ایک تاریخی جلسہ ہوگا جس میں مرکزی صدر اسفندیارولی خان بھی شرکت کریں گے۔