پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے خیبر پختونخوا میں ڈاکٹربرادری کے مسائل فوری حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر صحت کا طرز عمل کسی طور مفاد عامہ میں نہیں،نوشیروان برکی کی خاطر صحت کا پورا شعبہ داؤ پر لگا دیا گیا ہے، صوبے میں ڈاکٹر برادری پر تشدد،ہڑتال اور احتجاج کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریض طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر پریشان ہیں اور نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جن کا علاج غریب کے بس کی بات نہیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ گزشتہ6برس سے ہسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور صرف عمران خان کے کزن کو نوازنے کی خاطر صوبے کے وسائل کا بیڑا غرق کر دیا گیا اور جن اصلاحات کے نام پر انہیں امپورٹ کیا گیا ان اصلاحات کا کہیں نام و نشان تک نہیں اس کے برعکس صحت کے شعبہ کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں بکتر بند گاڑیاں پہنچا کر صوبائی وزیر صحت کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، اے این پی اس عوام دشمن طرز عمل کی شدید مذمت کرتی ہے اور جہاں بھی ظلم ہوا اے این پی مظلوم کا ساتھ دے گی، اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال سے طبی عملہ اور مریضوں کے تیمارداروں اور دیگر لواحقین کے مابین بداعتمادی کی خلیج نے جنم لیا ہے جو صوبے کی تاریخ کی بدترین مثال ہے،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر برادری کے مسائل کیلئے اے این پی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کی خاطر ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر پر تشدد سے حکومت نے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے، اسفندیار ولی خان نے وزیر صحت اور نوشیروان برکی سمیت ان کے حواریوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم کر کے میدان جنگ کی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے بصورت دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمی داری صوبائی حکومت اور کپتان پر عائد ہوگی۔