پشاور(پ ر)اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی نے دوباری سر اٹھایا ہے اور دہشت گرد صوبے کے طول و عرض میں واردات کر رہے ہیں۔ این وائی او کے صوبائی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، دھمکی آمیز فون کالز، اغوا برائے تاوان اور مختلف جگہوں پر اشتعال انگیز اور نفرت آمیز پمفلٹس تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سارے تشویشناک صورتحال میں پہلے کی طرح خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ صوبے کے عوام میں تشویش کی لہر اور خوف کا ماحول ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کے تقریباَ ہر حصے میں دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں اور عوام خصوصاَ صاحب ثروت لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ عروج پر ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا مورال دن بہ دن گرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بہت سے واقعات رپورٹ تک نہیں ہورہے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے اپنا کردار اور ذمہ داریاں پوری کرے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے حکومت کو اپنی مجرمانہ خاموشی توڑنا ہوگی اور عوام کے جان و مال کی تحفظ کویقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع میں دہشتگردوں کا کھل عام گشت کرنا اور اپنے اڈے دوبارہ فعال کرنا حکومت کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے اور دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا ہوا ہے اور عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر اصل مسئلے کو کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ دہشت گردوں کا دوبارہ منظم ہونا، کھل عام مختلف طریقہ واردات کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو ٹارگٹ کرنا اور بھتہ وصولی کسی صورت برداشت نہیں۔