2019 September پارٹی پر تنقید کارکنان کا حق ہے لیکن تنقید کہاں کرنی ہے اُس کا اپنا فورم ہوتا ہے

پارٹی پر تنقید کارکنان کا حق ہے لیکن تنقید کہاں کرنی ہے اُس کا اپنا فورم ہوتا ہے

پارٹی پر تنقید کارکنان کا حق ہے لیکن تنقید کہاں کرنی ہے اُس کا اپنا فورم ہوتا ہے

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پارٹی پر تنقید کارکنان کا حق ہے لیکن تنقید کہاں کرنی ہے اُس کا اپنا فورم ہوتا ہے،کیا تنقید کا فورم سوشل میڈیا ہے؟باچا خان مرکز پشاور میں این وائی او کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سے پارٹی کارکنان تنقید کرتے ہیں،کیا تنقید کا فورم سوشل میڈیا ہے؟ہر ورکر کو تنقید کا حق حاصل ہے لیکن تنقید کیلئے اصل فورم استعمال کرنا چاہیے،اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور یہاں پر کارکنان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پارٹی فیصلوں کی حمایت یا مخالفت کریں،وہ سرے سے پارٹی ورکرز ہی نہیں ہوتے جو اصل فورم کو چھوڑ کر پارٹی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تنقید شروع کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این وائی او اے این پی کام مستقبل ہے،پارٹی ڈسپلن کیلئے ضروری ہے کہ کارکنان پارٹی فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہوجائے،نام نہاد قوم پرستوں کو جب کوئی بھی راستہ نہیں ملتا تو وہ پختونوں کے قومی تحریک اے این پی تنقید شروع کردیتے ہیں،میں اُن نام نہاد قوم پرستوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا عمر بھر اُنہوں نے اے این پی کو ووٹ دیا ہے؟انہوں نے کہا کہ جنگ دلیل کے بنیاد پر لڑنی چاہیے،این وائی او کے نوجوانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ احترام اور اقدار کی سیاست کو فروغ دیں،خواتین کی تنظیم سازی پر خصوصی توجہوں کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ این وائی او اور اے این پی میں بھی بڑا فرق ہے،این وائی او اے این پی کی ذیلی تنظیم ہے،جو بندہ پارٹی ورکر ہو وہ این وائی او کا ممبر نہیں ہوسکتا۔

شیئر کریں