2019 September اسفندیار ولی خان نے لطیف آفریدی کی رکنیت بحالی اپیل مسترد کردی

اسفندیار ولی خان نے لطیف آفریدی کی رکنیت بحالی اپیل مسترد کردی

اسفندیار ولی خان نے لطیف آفریدی کی رکنیت بحالی اپیل مسترد کردی

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے لطیف آفریدی کی جانب سے دائر کئے گئے رکنیت بحالی کی اپیل مسترد کردی ہے،لطیف آفریدی کی رکنیت بحالی کے اپیل کے جواب میں اسفندیار ولی خان کی جانب سے جاری کیے گئے جواب نامے میں کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے اپیل میں یہ اعتراف کیا ہے کہ صوبائی صدر ایمل ولی خان کی جانب سے آپ کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس 23اگست 2019 کو شام کے وقت آپ کے دفتر میں موصول ہوگیا تھا لہذا یہ کوئی جواز نہیں کہ آپ کو شوکاز نوٹس کے تاریخ کا علم نہیں تھا۔ یہ بات بے معنی ہوجاتی ہے کہ نوٹس پر کوئی تاریخ درج نہیں تھی، ساتھ ہی یہ بات حیران کن ہے کہ آپ کے دیے گئے اپیل پر بھی کوئی تاریخ درج نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے مصروفیات بہت زیادہ ہوں گے، اسی وجہ سے آپ کو شوکاز نوٹس میں سات دن کی مہلت دی گئی تھی جس کے رو سے آپ کا ایک ہفتہ 30 اگست 2019 کو پورا ہورہا تھا لیکن آپ نے پھر بھی 2 ستمبر تک اس شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا، یعنی آخری وقت تک اور آپ کے اپیل میں بھی صوبائی صدر کے جاری کردہ شوکازنوٹس کا تاحال جواب نہیں دیا گیا ہے۔آپ نے اپنے اپیل میں یہ بھی کہا ہے کہ شوکاز نوٹس میں آپ کے اوپر غلط الزام لگایا گیا ہے لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ 18جولائی 2019 کو آپ نے کھجوری میں الیکشن کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کیا، چونکہ یہ الیکشن کا وقت تھا اور اسی جلسے میں نہ پارٹی امیدوار، تنظیم بلکہ پارٹی کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ اسی جلسے کے ویڈیو فوٹیج اور تصاویرمیڈیا اور ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آپ نے اپنے اپیل میں یہ مقف اپنایا ہے کہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے، آپ کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا اور شوکاز نوٹس مرکزی تنظیم کی جانب سے جاری ہونا چاہئیے تھا۔یہ فیصلہ قطعا عجلت میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ الیکشن کے بعد ایک ماہ تک انتظار کیا گیا، سوچ سمجھ، تحقیقات اور معلومات کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان تمام فیصلوں سے پہلے نئے اضلاع میں پارٹی کے امیدواران، تنظیموں اور صاحب الرائے مشران کی ایک میٹنگ بھی بلائی گئی تھی جس میں انہوں نے اپنے متعلقہ حلقوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی اور اسی رپورٹ کی روشنی میں آپ سمیت کئی معزز اراکین کو شوکاز نوٹسز جاری کئے گئے تھے۔یہ نکتہ کہ شوکاز نوٹس مرکزی تنظیم کی جانب سے جاری ہونا چاہئیے تھا، جیسے کہ آپ کو معلوم ہے کہ نئے اضلاع میں منعقدہ انتخابات صوبائی معاملہ تھا اسی وجہ سے صوبائی صدر اختیارمند ہے کہ وہ ان اضلاع کے حوالے سے پارٹی ڈسپلن اور آئین کی روشنی میں اپنے معزز ممبران سے شکست کے وجوہات معلوم کرسکیں۔دوسری بات، آپ نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ آپ مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ہیں۔ جس وقت آپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا اس وقت تک مرکزی انتخابات کے بعد نئی مرکزی مجلس عاملہ تشکیل نہیں پائی تھی لہذا آپ سابقہ مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ضرور ہیں لیکن نئی مجلس عاملہ تشکیل ہی نہیں دی گئی تھی تو یہ نکتہ بھی غیرمناسب ہے۔پارٹی آئین سے بالاتر کوئی نہیں۔ہر کسی کی پارٹی میں اپنی حیثیت ہے، آئین کے رو سے پارٹی نے جتنی عزت آپ جیسے رہنماں کو دی ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ پارٹی ہر کسی کو عزت دیتی ہے اور میری نظر میں چھوٹے سے چھوٹے ورکر کی اس پارٹی میں اسی طرح ہی عزت ہے جس طرح مرکزی عہدیداران یا یہاں تک کہ مرکزی صدر کو دی جاتی ہے۔ ڈسپلن قائم رکھنے کیلئے پارٹی میں جتنا بھی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور سب کے خلاف یکساں تادیبی کارروائی ضروری ہوتی ہے۔آپ نے صوبائی صدر کے شوکاز نوٹس کا جواب نہ دے کر براہ راست مرکزی تنظیم کو اپیل کی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ آئین کے شق نمبر 27 کے رو سے پہلے صوبائی تنظیم کو مقررہ دنوں میں جواب دینا ضروری تھا، اگر آپ کو اس کے بعد صوبائی فیصلے پر کوئی اعتراض تھا تو اسی آئین کے شق نمبر 27 کے رو سے مرکزی صدر کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی تھی لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔لہذا آپ نے صوبائی صدر اور صوبائی تنظیم کے شوکاز نوٹس کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے صوبائی صدر کے فیصلے کے خلاف براہ راست مرکزی صدر کو اپیل کردی، صوبائی صدر کو جواب دینے کے بعد اگر آپ کو ان کے کئے گئے فیصلے پر کوئی اعتراض ہوتا تو آپ مرکزی صدر کو اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے تھے۔ آپ نے چونکہ صوبائی تنظیم کو بالکل بائی پاس کرتے ہوئے اپیل کی ہے اسی بنیاد پر آپ کی اپیل مسترد کی جاتی ہے اور صوبائی صدر کے فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

شیئر کریں