2019 September کشمیر کشمیریوں کا ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے پر عمل درآمد میں ہے،میاں افتخار

کشمیر کشمیریوں کا ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے پر عمل درآمد میں ہے،میاں افتخار

کشمیر کشمیریوں کا ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے پر عمل درآمد میں ہے،میاں افتخار

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی کا روز اول سے موقف رہا ہے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے پر عمل درآمد میں ہے،اسلام آباد میں شہید بھٹو فاونڈیشن کے زیر اہتمام کشمیر مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا مسئلہ کشمیر کا حل طب ہی ممکن ہے جب دونوں ممالک پاکستان اور بھارت مل بیٹھ کر اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے،یہ اے این پی کا بھی موقف ہے اور شملہ معاہدہ بھی یہی کہتا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے،استصواب رائے کے ذریعے ہی یہ ممکن ہے کہ کشمیری یہ فیصلہ کریں کہ اُن کا مستقبل کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے کشمیر میں جو کیا ہے وہ نہ صرف اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ مودی نے بھارت کے آئین کو بھی پامال کیا ہے لیکن دوسری طرف حکومت پاکستان بھی کشمیریوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہی بلکہ کشمیر جیسے مسئلے کو بھی سیاست کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔آج تک وزیر اعظم اور اُس کی کابینہ نے یہ ضروری نہیں سمجھا کہ پاکستان کے اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر پر اعتماد میں لیں۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار اور عمران خان دونوں اپوزیشن کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کررہی ہے،عمران خان پاکستان میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ مودی کشمیر میں اپوزیشن رہنماوں کو اجازت نہیں دے رہا کہ وہ کشمیر کا دورہ کریں،کانگریس اور راہول گاندھی پر کشمیر میں پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیر میں کچھ اچھا نہیں کررہا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ کچھ لوگ مسئلہ کشمیر کو افغانستان سے جوڑنے کی باتیں بھی کررہے ہیں،اگر افغان امن مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اُس کا خمیازہ پاکستان کو ایک بار پھر بھگتنا پڑے گا،اسی لیے پاکستان کے مستقبل کیلئے افغان امن مذاکرات کی کامیابی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا افغان امن مذاکرات میں حکومت افغانستان کی عدم شمولیت کی باتیں بھی پریشان کن ہے کیونکہ اگر اس عمل کا اہم فریق مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا تو ان مذاکرات کو کسی صورت بھی کامیاب قرار نہٰں دیا جاسکتا۔میاں افتخار حسین نے یہ بھی کہا مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے باچا خان نے اُن حالات میں بھی صلح کی آفر کی تھی جب پاکستان بننے کے بعد اُس وقت کے صوبہ سرحد میں خدائی خدمتگاروں کی حکومت کو ختم کیا گیا تھا لیکن پھر بھی صدق دل سے باچا خان نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ریاست پاکستان کو افر کیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت پاکستان نے وہ آفر ٹھکرایا تھا۔

شیئر کریں