2019 September افغان امن مذاکرات میں افغانستان کو نظر انداز کرنا قابل تشویش ہے،اسفندیار ولی خان

افغان امن مذاکرات میں افغانستان کو نظر انداز کرنا قابل تشویش ہے،اسفندیار ولی خان

افغان امن مذاکرات میں افغانستان کو نظر انداز کرنا قابل تشویش ہے،اسفندیار ولی خان

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا دورہ امریکہ منسوخ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ افغان امن مذاکرات میں سب سے اہم فریق کو نظر انداز کرلیا گیا ہے،اب یہ مسئلہ خطرناک صورتحال اختیار کریگا،ہمارا روز اول سے موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے میں تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے،باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اب بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ امن مذاکرات میں دونوں فریقین کو اعتماد میں لینا ضروری ہے،اگر حکومت افغانستان اور طالبان کا اعتماد بحال ہوگا تو یہ معاہدہ پائیدار ہوگا،بصورت دیگر یہ ایک نئی جنگ اور دہشت گردی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا،افغانستان کا امن پاکستان اور دنیاکے ساتھ جڑا ہے،اس لیے حکومت پاکستان سمیت تمام ممالک کو بھی اس امن مذاکرات کے کامیابی کیلئے کوششیں کرنی ہوگی،اگر افغانستان میں بدامنی ہوتی ہے تو اُس کا اثرپورے خطے اور بلخصوص پختون قوم پر پڑیگا،انہوں نے کہا کہ ساتھ میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں امن مذاکرات کی بات ہورہی ہے وہاں پر دہشتگرد کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے،جس کے روک تھام کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں داعش کی موجودگی مسلسل خطرے کی گھنٹی ہے،افغان امن مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں دونوں فریقین کو داعش اور دہشتگرد کارروائیوں کے مکمل خاتمے کیلئے ایک ہونا پڑیگا۔ہم اس موقف کو ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ پاکستان کے پارلیمان میں منظور کرائے گئے قرارداد کی روشنی میں افغانوں کی سربراہی اور انٹرا افغان مذاکرات ہی اس خطے اور افغان جنگ کے خاتمے کا واحد اور پائیدار حل ہے،مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارا موقف روز اول سے واضح ہے،ہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی قوم پر تشدد کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرنا بھی دہشتگردی ہے اور کشمیر میں مودی سرکار کھلم کھلا دہشتگردی کررہا ہے،بزور بندوق وہاں کے لوگوں پر اپنے فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں، اے این پی کا مطالبہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے کی روشنی میں حل کیا جائے،مودی سرکار نے کشمیر میں نہ صرف اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بھارتی سرکار نے اکثریت کے بنیاد پر کشمیر سے متعلق فیصلے کیلئے اپنے آئین کو بھی بلڈوز کیا ہے۔بھارت اور پاکستان میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک بات مشترک ہے،عمران خان اور مودی اپوزیشن کے ساتھ ایک جیسا سلوک کررہے ہیں،مودی بھارت میں اپوزیشن کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دے رہا جبکہ پاکستان میں عمران خان اپوزیشن کو دیوار سے لگا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت اے پی ایس کے واقعے کے بعد اُس نے ملک کے تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا اور تمام سیاسی جماعتوں سمیت عوام کو اعتماد میں لیا جبکہ موجودہ وزیر اعظم کسی بھی مسئلے پر اپوزیشن کو کسی بھی قومی یا ملکی مسئلے پر اعتماد میں لینے کی توفیق نہیں ہورہی۔حتیٰ کے مسئلہ کشمیر پر بھی کپتان کو ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کو قوم کے سامنے لانا چاہیے اور کشمیر کے مسئلے پر بھی اوپزیشن کو اکھٹا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت پاکستان اور سلیکٹڈ وزیراعظم سے یہ وضاحت بھی طلب کرتی ہے کہ عمران خان کشمیر کے حوالے سے مشرف کی اُس پالیسی کو عملی شکل تو نہیں دے رہا جب مشرف کے اقتدار میں عمران خان نے اُس پالسیی کی حمایت کی تھی،ساتھ میں یہ وضاحت بھی قابل طلب ہے کہ ٹرمپ کا بیانیہ پاکستان کیلئے ثالثی اور مودی کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کا کیوں تھا؟عمران خان یہ بھی واضح کریں کہ ٹرمپ کے ساتھ کشمیر کے حوالے سے اُس نے کیا معاہدہ کیا ہے۔اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ معاشی طور پر ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے،عنقریب ملک کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کردیا جائیگا، موجودہ حکومت کی ناکام اور کمزور پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مڈل کلاس ختم ہورہا ہے،مڈل کلاس معاشرے کا بنیادی ستون ہے اگر یہ ستون بیٹھ گیا تو خدانخواستہ یہ ملک انارکی کی طرف چلا جائیگا۔جب لوگ بھوک سے مررہے ہو تو پھر قانونی اور غیر قانونی،آئینی اور غیر آئینی کے بیچ کوئی بھی تفریق نہیں کرتا،حکمران اپنا قبلہ درست کرلیں یا پھر اس بات کی تیاری پکڑ لیں کہ عنقریب اُن کو ملک سے ہاتھ دھونا پڑے گا،کپتان اپنی ہر بات کی آج بحثیت حکمران نفی کررہا ہے، ڈالر کو پر لگ گئے ہیں، یہاں تک کہ دوائیوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے،قرض لیکر حکمران خوشیاں منارہے ہیں۔بجلی،گیس اور تیل کے قیمتوں میں 75فیصد اضافہ ہونے جارہا ہے،کپتان کی ساری معاشی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہے،آئی ایم ایف کے پاس ملک کی معیشت گروی رکھ دی گئی ہے،اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ ملک بچانے کی خاطر معاشی پالیسیاں ازسر نو تشکیل دی جائیں۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کشمیر کے صورتحال میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہم دنیا میں تنہا کھڑیں ہیں،آج چین جیسا ساتھی بھی ہمارا اُس طرح مدد نہیں کررہا ہے جس طرح کرنا چاہیے تھا،مسئلہ کشمیر میں وہ اپنے مفادات کی وجہ سے ہمارے ساتھ کھڑا ہے اس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا تعلقات میں بیلنس نہ رکھنا ہے، پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار کرنے کی خاطر چین جیسے ساتھی کو نظر انداز کیا، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام ممالک کے ساتھ برابری کے بنیاد پر تعلقات قائم کئے جائیں،امن ہر مسئلے کا حل ہے،جنگ سے معاملات مزید بگڑتے ہیں،آج ہمارے ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے سی پیک پر بھی کام سست روی کا شکار ہے، یہ خطرہ پیدا ہوچکا ہے کہ سی پیک کا خاتمہ ہی نہ ہوجائے،باوجود اس کے کہ اے این پی کو سی پیک پر اعتراضات ہیں کیونکہ مغربی اکنامک کاریڈور پر شروع دن سے لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے کو پختونوں کا معاشی قتل عام ہے۔اگر سی پیک جیسا منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو پھر پاکستان کو اپنے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے بہت تگ ودو کرنا پڑیگا،اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالسیی کو از سر نو تشکیل دے۔متحدہ اپوزیشن کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی متحدہ اپوزیشن کے فیصلوں کا ساتھ دیگی،ایک سیاسی جماعت کے فیصلے کے ساتھ ہرگز اے این پی نہیں ہوگی،سیاسی جماعتوں کے ساتھ ڈیل کی خبروں کی بھی اسفندیار ولی خان نے سختی سے تردید کی اور کہا کہ ڈیل کی خبریں عوام کے حوصلے پست کرنے کیلئے جاری کیے جاتے ہیں،کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہورہی۔

شیئر کریں