2019 September سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سندھو دیش جیسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، ایمل ولی خان

سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سندھو دیش جیسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، ایمل ولی خان

سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سندھو دیش جیسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، ایمل ولی خان

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے ملک کبھی مضبوط نہیں ہو سکتے،روس اپنی معیشت کی تباہی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا،سندھو دیش اور دیگر صوبوں سے آزادی کی اٹھنے والی آوازیں روکنے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہکال پشاور میں اے این پی کے شہید رہنما ابرار خلیل اور ان کے بھتیجے راشد خلیل شہید کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر شہید ابرار خلیل اور راشد خلیل کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی گراں قدر خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایمل ولی خانھ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ باچاخان نے ہمیں عدم تشدد کا فلسفہ دیا لیکن پختونوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے پر ہمیشہ ہمیں ٹارگٹ کیا گیا، تحریک اصلاح افاغنہ کے قیام کو 109سال بیت چکے ہیں اور اس ایک صدی میں جتنی قربانیاں اس تحریک نے دیں کسی اور نے نہیں دیں، انہوں نے کہا کہ گولیوں سے خوفزدہ نہیں ہونگے اور پختونوں کے حقوق کیلئے ہمیشہ آواز اٹھاتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ملک میں جی رہے ہیں جس کی معیشت دہشت گردی کی بنیاد پر چل رہی ہے اور ہم ان حالات میں امن کا پیغام پھیلا رہے ہیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ ابرار خلیل شہید باچا خان کا لگایا ہوا ایسا تناور درخت تھا جس نے کٹنے کے بعد بھی مزید سینکڑوں مضبوط درخت اپنے پیچھے چھوڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ عمران یا اس سے قبل گزرنے والے حکمران نہیں بلکہ ان تمام چہروں کو سامنے لانے والوں سے ہے جو اپنا کام چھوڑ کر ملک کے باقی تمام اداروں میں مداخلت کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صدر ایوب سے لے کر آج تک
جمہوریت پسند قوتوں کو دھکیل کر اپنے من پسند لوگوں کو اقتدار سے نوازا گیا جس کی وجہ سے ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف جاتا رہا، ایمل ولی نے کہا کہ پہلے الطاف حسین کو بنایا گیا پھر اسے منظر عام سے ہٹا دیا گیا، مہاجر کو مجاہد بنایا اور انہیں طالب بنانے کے بعد پھر ختم کرنے پر سارا زور صرف کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے اور سیاسی استحکام کیلئے جمہوریت پسند قوتوں پر اعتماد وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کے چار بڑے ستون غلام بن چکے ہیں، جمہوریت پر شب خون مارا گیا،گذشتہ سال الیکشن میں 22کروڑ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر کٹھ پتلی کو مسلط کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ آج کا میڈیا دیکھ کر افسوس ہوتا ہے،حق کی آواز دبا دی گئی ہے جبکہ عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے، انہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران ججز کی تبدیلی نیک شگون نہیں، انہوں نے کہا کہ ملک کا ایک مضبوط ادارہ باقی اداروں میں مداخلت کی بجائے صرف دفاع پر توجہ دے، کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومتی پالیسی کھل کر سامنے آ چکی ہے وزیر اعظم کے پاس ہر جمعہ کھڑے ہونے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا، انہوں نے کہا کہ عوام کو لالی پاپ دینے کی بجائے حکومت اقرار کرے کہ اس نے کشمیر بیچ دیا ہے۔

شیئر کریں