2019 September ہمارا ایک عہدادار،ایم این اے،ایم پی اے یا وزیر کرپشن کے الزام میں نہیں پکڑا گیا

ہمارا ایک عہدادار،ایم این اے،ایم پی اے یا وزیر کرپشن کے الزام میں نہیں پکڑا گیا

ہمارا ایک عہدادار،ایم این اے،ایم پی اے یا وزیر کرپشن کے الزام میں نہیں پکڑا گیا

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی کی سب سے بڑی گناہ پختونوں کے حقوق کیلئے اُٹھ کھڑا ہونا ہے،اے این پی کے دور حکومت میں طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن پچھلے چھ سالوں سے ہمارا ایک عہدادار،ایم این اے،ایم پی اے یا وزیر کرپشن کے الزام میں نہیں پکڑا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی پر پختونوں کے حقوق کیلئے کھڑے ہونے کی وجہ سے الزامات لگائے گئے۔باچا خان مرکز پشاور میں این وائی او کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی حکومت میں احتساب کمیشن اے این پی کیلئے ہی بنایا گیا تھا لیکن جب اے این پی کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا تو اُس احتساب کمیشن کو تالے لگ گئے کیونکہ احتساب کمیشن اے این پی کے ایک ورکرپر بھی کیس نہیں بنا سکا اور جب اُسی احتساب کمیشن نے پی ٹی آئی پر کیسسز بنانا شروع کیے تو اُس کو تالے لگائے گئے،ایمل ولی خان نے کہا کہ جو سیاسی کارکنان اے این پی پر تنقید کرتے ہیں اُن کو اپنی سیاسی پارٹیوں کا اندازہ بھی ہونا چاہیے،آج وہ جماعتیں بھی اے این پی کے تنظیمی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہیں جن کا اپنا مرکزی صدر پچھلے 32 سال سے صدر بن بیٹھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی میں ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،تنظیم بنانے کیلئے سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں،عام ورکرز کو ان فیصلوں سے یہ تاثر دینا ضروری ہے کہ اے این پی ورکرز کی پارٹی ہے اور ایک عرصے سے کارکنان یہ محسوس کرتے تھے کہ اے این پی میں ورکرز کا نہیں پوچھا جاتا،ایک بار پھر یہ وضاحت ضروری ہے کہ اے این پی کارکنان کی جماعت ہے اور تنظیم سے بالاتر کوئی نہیں چاہے وہ جتنا بھی بڑا آدمی کیوں نہ ہو؟ایمل ولی خان نے اس موقع پر مزید کہا کہ این وائی او کے نوجوان اے این پی کا کل ہے،باچا خان نے خدائی خدمتگارتحریک کے آغاز میں ہی نوجوانوں کو اُس تحریک کا حصہ بنایا تھا،نوجوانوں کے تربیت کیلئے باچا خان نے آزاد مدارس کا قیام عمل میں لایا تھا،این وائی او کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو سیاسی شعور دینا ہے،این وائی او پختون زلمی کی تعبیر ہے۔

شیئر کریں