پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے میں جاری این ٹی ایس اور ایف ٹی ایس ٹیسٹ میں جاری گھپلوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ اس حوالے سے حکومت کی خاموشی کیا معنی رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس اور ایف ٹی ایس کے پیپرز لیک ہوتے ہیں اور کھلم کھلا ان کی بولیاں لگائی جا رہی ہیں، مھکمہ تعلیم میں موجود بوگس اور منظور نظر افراد کے ٹیسٹنگ ادارے غریب نوجوانوں سے اربوں روپیہ اکٹھا کر چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ مخصوص افراد کو نوازنے کیلئے اساتذہ کی بھرتی میں باہر سے ٹیسٹنگ اداروں کو روزگار دیا گیا، انہوں نے کہا کہ پیپرز آؤٹ ہونے کے خلاف طلباء کے احتجاجی سلسلے کے باوجود حکمران ٹس سے مس نہ ہوئے اور ایک پلان کے تحت لوٹ مار کی اجازت دی گئی ہے، سردار بابک نے کہا کہ احتسابی ادارے تحقیقات کریں کہ بوگس ادارے کس کی ملکیت ہیں اور کس کی اجازت سے صوبے کے غریب نوجوانوں سے اربوں روپیہ لوٹنے میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ عوامی نوعیت کا حساس معاملہ ہے جسے اے این پی اسمبلی فلور پر اٹھائے گی، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کو لوٹنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن احتسابی اداروں کی آنکھین بند ہیں۔
دریں اثنا صوبے میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت خاموشی اختیار کرنے کی بجائے قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی دوسری چیز انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، جبکہ آئے روز درجنوں افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اس موقع پر پوائنٹ سکورنگ کی بجائے معاملے پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاہم حکومت کی مجرمانہ خاموشی از خود ایک سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا تساہل انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے، صوبے کے عوام بے یارومددگار پڑے ہیں اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی داد رسی کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی ڈینگی پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہے،صوبائی حکومت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرتی تو بیشتر قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قابل ڈاکٹروں کی کمی نہیں تاہم انہیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹریننگ نہیں دی گئی، انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر سب اچھا کی رپورٹ دینے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی،صوبے میں صورتحال واقعی سنگین ہے اور اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے انسانی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور فوری طور پر احتیاطی تدابیر، مرض کی روک تھام اور فوری علاج معالجے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کیا جا سکے۔