پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز ایک بڑی حقیقت ہیں‘ کھربوں روپے کے اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اضافے کا عمل مسلسل جاری ہے اور روپے کی بے قدری میں مسلسل اضافے نے قرضوں کا حجم بھی بڑھا دیا ہے، اپنے حلقہ نیابت بونیر کی مختلف تحصیلوں میں ایمل ولی خان کے دورے کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لینے کے دوران پارٹی عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی صدر ایمل ولی خان کا دورہ بونیر پارٹی کو مزید فعال اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، صوبے کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں بدانتظامی اور بے جا سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ماضی کے اچھی کارکردگی دکھانے والے اداروں پر برائے فروخت کا بورڈ لگا دیا گیا‘معیشت کی حالت‘ اداروں میں بدانتظامی‘ قرضے دینے والوں کی ڈکٹیشن پر ہونے والے فیصلوں کے نتیجے میں مہنگائی کے گراف میں مسلسل اضافہ ریکارڈ ہورہا ہے،جس سے صوبے کے عوام کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پوری صوبائی حکومت ابھی تک سلیکٹڈ وزیر اعظم کی تقریر کے سحر سے نہیں نکل پا رہی جبکہ عوام کیلئے اس تقریر کے نتیجے میں گیس سلنڈر کی قیمت میں 140روپے کا اضافہ کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی بند ہیں ڈاکٹر برادری حکومتی ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہے لیکن حکمران خواب غفلت میں پڑے کسی بڑے جانی نقصان کا انتظار کر رہے ہیں،سردار حسین بابک نے کہا کہ کابینہ بے اختیار ہے اور کسی وزیر یا ذمہ دار کے اختیارات کا پتہ نہیں چل رہا،انہوں نے کہا کہ صوبے کو باہر سے چلایا جا رہا ہے،تمام محکمے تجربہ گاہ بنا دیئے گئے ہیں اور ان محکموں کے ملازمین جائز مطالبات کیلئے احتجاج پر ہیں،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے قابل ترین افسران اور سینئر ڈاکٹر مجبوراً چھٹیوں پر جا رہے ہیں،صوبے میں جنگل کا قانون ہے اور ہر طرف کرپشن و کمیشن کا بازار گرم ہے، سردار بابک نے مزید کہا کہ کرپشن کیسوں پر احتسابی اداروں کی خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کوئی نہیں جانتا،انہوں نے احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں جاری کرپشن اور گزشتہ چھ سال کے میگا کرپشن سکینڈلز کی تحقیقات کریں، انہوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور وہ نا اہل صوبائی حکومت کا بوجھ مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔