پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹر برادری کے ساتھ طے کئے جانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ و ریجنل ہیلتھ اتھارٹی بلز کے خوشنما پردے کی آڑ میں ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تجارت پیشہ بورڈ آف ڈائریکٹر مسلط کرکے پروفیشنل ڈاکٹرز کو بے وقعت کیا جا رہا ہے، سرکاری ہسپتالوں کو نجی ہسپتالوں کے سفاک ما حول میں بدلنے کی سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کی نوکریاں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں، ڈسٹرکٹ و ریجنل ہیلتھ اتھارٹی بلز عوام دشمن منصوبہ ہے،انہوں نے کہا کہ مذکورہ بل کے نام پر ہسپتالوں کو سیاسی اکھاڑہ بنا کر صحت کا بیوپار شروع کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے علاج عوام کی پہنچ سے دور ہوچکا ہے۔ او پی ڈی، ایکسرے اور لیبارٹری ٹیسٹوں کی فیسوں میں اضافہ کرکے غریب عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، ہسپتالوں میں دوائیاں ناپید ہوچکی ہیں اور یہ بل ہسپتالوں کی نجکاری کی جانب ایک اور قدم ہے، انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور عوام دشمن پالیسیاں کسی صورت قبول نہیں کریں گے، سردار حسین بابک نے کہا کہ ڈاکٹر برادری کو درپیش مسائل کا احاطہ کرنے کی بجائے انہیں سڑکوں پر لانے والے حکمران حکومت کرنے کے اہل نہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹروں کے مطالبات پر ان کے ساتھ ہیں، حکومت کالا قانون نافذ کر کے تمام ہیلتھ اتھارٹیز اور سرکاری ہسپتالوں کا بجٹ پرائیویٹ کمپنیوں کو دے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو پرائیویٹ کرنے کا واحد مقصد اپنے چہیتوں کو نوازنا ہے، انہوں نے آخر میں مطالبہ کیا کہ حکومت مختلف بلز اور ایکٹ کی آڑ میں ہسپتالوں کی نجکاری کے عمل سے باز رہے۔