پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے صوبہ بھر میں ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عملاً مارشل لاء نافذ کردی ہے۔ صوبائی اسمبلی کو نظرانداز کرکے ایک ایسے قانون کو پورے صوبے تک توسیع دی گئی ہے جو سابقہ قبائلی علاقوں میں نافذ تھا۔ قبائلی علاقوں میں غیرمعمولی صورتحال کی وجہ سے آرڈیننس نافذ کردی گئی تھی لیکن صوبہ کے حالات غیرمعمولی نہیں، نہ ہی اس قانون کے نفاذ کی ضرورت تھی۔ باچاخان مرکز سے جاری بیان میں صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف عسکریت پسندی کے خلاف فتح کا جشن منارہی ہے لیکن دوسری طرف ایک ایسے قانون کا نفاذ کررہی ہے جو صرف غیرمعمولی صورتحال پر نافذ کی جاتی ہے۔آرڈیننس کے نفاذ کیلئے بھی غیرمعمولی وقت کا انتخاب کیا گیا۔ عین اس کا نفاذ کیا گیا جب بھارت نے کشمیر میں آرٹیکل 370کو ختم کیا۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، آرڈیننس کے ذریعے مارشل لاء کے نفاذ سے کیا پیغام دیا جارہا ہے۔ سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے پورے صوبے میں پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار عملاً ختم کردیا گیا ہے جو ایک مضحکہ خیز امر ہے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اس قسم کے قانون کی پورے صوبے تک توسیع ظاہر کرتی ہے کہ ہم جس مقصد کیلئے سابقہ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنا چاہتے تھے اس کے خلاف پی ٹی آئی حکومت پورے صوبے کو فاٹا بنانا چاہتی ہے۔ صوبائی اسمبلی کو نظرانداز کرکے بنیادی حقوق کو دبانے کیلئے اس قسم کا اقدام پوری قوم کیساتھ مذاق ہے۔ سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ اس قانون کے تحت اٹھائے جانیوالے اقدامات کہیں بھی چیلنج نہیں کئے جاسکتے جو بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔سردارحسین بابک کاکہنا تھا کہ آئین کو نظرانداز کرکے بنیادی حقوق کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے جو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلئے نقصان دہ ہے۔ حکومت نے ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کو پورے صوبے میں بڑھا کر آمرانہ طرز حکومت کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے کوئی بھی سیکیورٹی ایجنسی کسی بھی شہری کو اسکے گھر،سکول، کالج،مسجد یا عدالت سے اٹھاسکتی ہے اور اسکی گرفتاری کو قانون کی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا۔ اے این پی ہر اس قانون کیخلاف آواز اٹھاتی رہے گی اور صوبائی اسمبلی کے فلور پر اس کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جائیگی۔ انہوں نے تمام جمہوریت پسند اور انسان دوست قوتوں پر زور دیا کہ اس قانون کیخلاف اپنی مؤثر اور پرامن آواز اٹھانے کیلئے ہر فورم کا استعمال کیا جائے اور اس موقع پر اے این پی انکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔