پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ بم دھماکوں کے سائے میں امن مذاکرات کی کامیابی کسی صورت ممکن نہیں، پاکستان اور افغانستان کی سر زمین دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہیں، دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنا ہونگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں افغانستان میں امن مذاکارات اور خطے میں اس کے اثرات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل بارے امن مذاکرات میں حکومت افغانستان کی شرکت ضروری ہے، اصل فریق کی غیر موجودگی میں اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنا مضحکہ خیز ہے، انہوں نے کہا کہ امریکہ فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کرے،انہوں نے کہا کہ بلا شبہ دہشت گردی سے پاکستان اور افغانستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تاہم اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے اور پائیدار امن کے قیام کیلئے دونوں فریقین کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ انتہائی ضروری ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ افغانستان کو سفارتی سطح پر اپنی آواز عالمی دنیا تک پہنچانی چاہئے،انہوں نے شادی ہال میں ہونے والے اندوہناک بم دھماکے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ لاشوں کے سائے اور دھماکوں کی گھن گرج میں امن مذاکرات کی کامیابی نا ممکن ہے،انہوں نے طورخم بارڈر کھولنے کے حالیہ فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ سرحد کے دونوں جانب دہشت گردی سے متاثرہ پختونوں کی زندگیوں میں معاشی انقلاب لانے کیلئے تمام تجارتی راستوں کو کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش ہے جس سے ہم بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی سے محروم ہو چکے ہیں، سردار بابک نے کہا کہ بداعتمادی کی فضا ختم کئے بغیر ماحول کو سازگار نہیں بنایا جا سکتا، پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو وہاں سے جنازوں کی آمد روکی جا سکتی ہے،تاہم اس سلسلے میں افغانستان کو بھی اپنے طور پرسنجیدہ ہونا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے مذاکراتی عمل جاری ہے لیکن اس تمام عرصہ کے دوران بم دھماکوں کے ذریعے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی،انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے افغان حکومت کی سنجیدگی اور عالمی دنیا تک اپنی صدا کی رسائی انتہائی ضروری ہے۔