عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک قرارداد جمع کرائی ہے جس میں وفاق کے ذمے صوبے کے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت 2016-17،2017-18 اور2018-19 کے بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایا500ارب روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے، قرارداد اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے جمع کرائی، قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے،ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ کی پیداوار کے باوجود،بجلی کا خالص منافع نہ ملنا، کم وولٹیج اور لوڈشیڈنگ صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ 1986میں نیشنل فنانس کمیشن نے اے جی این قاضی کمیٹی بنائی تھی جسے1988میں این ایف سی نے قاضی کمیٹی میٹاڈالوجی کو کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI)کے سامنے رکھا، 1990میں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعدتمام قانونی تقاضے پورے ہوتے ہوئے cciکے24اپریل 2018کو ہونے والے37اجلاس اور39ویں اجلاس میں تمام سفارشا اور فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی،تاکہ ایک ماہ کے اندر سی سی آئی کے سامنے سفارشات رکھی جا سکیں،
انہوں نے مزید کہا کہ 15مئی تا15جون 2019تک وفاقی وزیر کی زیر صدارت تین اجلاس منعقد ہوئے تاہم وہ اپنی سفارشات کو حتمی شکل نہ دے سکے،
سردار حسین بابک نے سپیکر کی توجہ اس جانب دلائی کہ خیبر پختونخوا مالی بحران کا شکار ہے،نظام رک چکا ہے،لہٰذا مرکزی صوبے کو صوبے کی مالی مشکلات کا ادراک کرنا چاہئے،ملک کے توانائی سیکٹر میں ہمارے صوبے کا بہت بڑا کردار ہے اور صوبے کو اس کا حق ضرور ملنا چاہئے۔