پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ افغانستان کی آزاد وخود مختار حیثیت تسلیم کئے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، پاکستان و افغانستان کو اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیاں سپرپاورز کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھ تشکیل دینی چاہئیں،حکومت اور ریاست پاکستان کشمیر کے حوالے سے واضح پالیسی قوم کے سامنے رکھے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور یونیورسٹی میں پختون ایس ایف کے زیر اہتمام پختون کلچر ڈے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک اور تبسم یونس کتوزئی کے ہمراہ مختلف سٹالوں کا دورہ کیا اور ثقافت کے حوالے سے طلبا کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پختون ثقافت کے رنگ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں، ہم دنیا کی تمام اقوام کی تہذیبوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تاہم دوسرے بھی ہماری اقدار اور ثقافت کی قدر کریں، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے قافلے کے سپاہی ہیں اور عدم تشدد کا پیغام دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں، تشدد انسانیت کا دشمن جبکہ عدم تشدد انسانیت کی معراج ہے، انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ ثقافت کے رنگوں میں اپنے شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہ کیا جائے، ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کی آڑ میں پرانے پاکستان کو حلیہ بگاڑ دیا گیا، معیشت تباہ ہو چکی ہے اور ملک صومالیہ کا نقشہ پیش کرنے لگا ہے، انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی سلامتی کی قیمت پر عمران کو قوم پر مسلط کیا،ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے ملک کے لاکھوں افراد سے روزگار چھین لیا،انہوں نے کہا کہ یوٹرن بڑے لیڈر کی نہیں بلکہ بے غیرتی اور میدان سے بھاگنے کی علامت ہے، مقتدر قوتوں نے ملکی سلامتی داؤ پر لگا دی، پاکستان کو بچانے اور معیشت کی بہتری کیلئے موجودہ حکومت کو گھر بھیجنا پڑے گا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑا کشکول عمران خان کے پاس ہے جو بھیک مانگنے پر خود کشی کو ترجیح دیتا تھا، ملکی معیشت کی بہتری والے ارسطو اسد عمر نے میدان سے بھاگنے میں عافیت سمجھی، پورا ملک سرا سیمگی کی کیفیت میں ہے،پشاور میں بی آر ٹی کے نام پر عوام کا مستقبل تاریک کرنے والا ملک کا وزیر دفاع لگا دیا گیا ہے، پی ٹی آئی میں جتنی بڑی کرپشن ہو اتنا بڑا عہدہ دیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک بچانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ اپنے لاڈلے کی حکومت فارغ کرے، نئے انتخابات کرا کے اقتدار منتخب عوامی نمائندوں کو دیا جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کشمیر پر حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی جبکہ کپتان نے کشمیریوں کی مدد پر بھی پابندی لگا دی ہے، انہوں نے کہا کہ70سال تک کشمیر کے نام پر چندے کھانے والے اب کشمیریوں کی مدد سے کترا رہے ہیں، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور کہا کہ باچا خان نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی پیشکش کی تھی جس کی پاداش میں ہماری حکومت ختم کر دی گئی،کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کشمیر پر واضح پالیسی کا اعلان کریں، انہوں نے کہا کہ نیازی نے دورہ امریکہ کے دوران کشمیر کا سودا کر دیا ہے اور اب حیلے بہانوں سے اس مسئلہ کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے،دورہ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام تک پوری دنیا امن سے محروم رہے گی،پاکستان و افغانستان کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی و ملکی مفاد کے پیش نظر بنانی چاہئیں، وزیر اعظم کا بیانیہ تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں،امریکی خوشنودی کیلئے چین جیسے بہترین دوست سے ہاتھ دھونے پڑے، انہوں نے کہا کہ ایٹم بم کی باتیں کمزور معاشی ملک کو زیب نہیں دیتیں، روس اپنی معیشت کی تباہی کے بعد کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونوں کی کئی نسلیں تباہ ہو چکی ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ اس آگ پر قابو پایا جائے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ تعطل کا شکار امن مذاکرات جلد شروع کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر مذاکراتی عمل بے سود ہے، بات چیت کے عمل کے دوران سیز فائر پر عملدرآمد کیا جائے تو مذاکرات کامیابی کی جانب بڑھ سکتے ہیں، ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ گورنر اور سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ کے درمیان اختیارات کی جنگ جاری ہے اور اسی کے نتیجے میں شہریوں کو ٹارگٹ کرنے کا پلان ترتیب دیا گیا ہے، انہوں نے آرڈیننس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ماورائے آئین کوئی بھی قانون ناقابل قبول ہو گا، انسانی حقوق کی پامالی، شہریوں کو اٹھانے اور غائب کرنے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔