عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشاور میں ڈاکٹر برادری کے احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج،تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والوں پر تشدد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں، پشاور میں پولیس تشدد کا نشانہ بننے والے ہڑتالی ڈاکٹروں کے مظاہرے اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ہسپتالوں کو میدان کارزار بنانے کا رویہ دیکھنے میں نہیں آیا، پاکستان میں مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والے لوگوں کو پولیس گردی کا نشانہ بنا کر انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جمہوری دور میں اپنے جائز حقوق کیلئے پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے جسے حکومت ظلم و جبر کے ذریعے نہیں دبا سکتی، انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکمران صرف اپنے آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں ، عوامی نمائندوں کا یہ وطیرہ نہیں ہو سکتا،انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی کے دور میں یہی پولیس تھی جس نے ہمیشہ مثالی کردار ادا کیا جبکہ موجودہ حکومت نے پولیس کو سیاسی دہشت گردی کیلئے استعمال کر کے اس کا کردار متنازعہ کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ عاقبت نا اندیشوں کی حکومت میں زلزلوں پر بھی طنز کئے جا رہے ہیں، جبکہ کوئی بھی مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بجائے تشدد اور جبر کا راستہ اپنایا جا رہا ہے، حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے اداروں کی نجکاری کو ترجیح دے رہی ہے، ڈاکٹر اور مریض کے درمیان بڑھتے فاصلوں کی بنیادی وجہ حکومت کی پالیسیاں ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے پولیس کی وردی میں ملبوس تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور تشدد کا آرڈر جاری کرنے والوں کو قوم کے سامنے پیش کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی امور چلانے کی اہل نہیں ہے،نوشیروان برکی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ویڈیو لنک کے ذریعے چلا رہا ہے جو اس صوبے کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے،حالانکہ یہ تمام اختیارات رولز کے مطابق محکمے کے سیکرٹری اور وزیر کے پاس ہونے چاہئیں، ڈاکٹر برادری کا مسئلہ حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خراب ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک مقیم شخص صوبے کی قیمتی ادارے کو ویڈیو لنک کے ذریعے چلانے کی کوشش کر رہا ہے اور صوبائی حکومت نے اپنے لیڈر کی خوشی کیلئے پورا ڈیپارٹمنٹ اس کی جیب میں ڈال دیا ہے، انہوں نے پولیس کو غیر سیاسی بنانے کے دعوے پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا حکومت اپنے تمام غیر قانونی کاموں کیلئے پولیس کو استعمال کر رہی ہے اور اسے مزید اب سیاسی بنا دیا گیا ہے۔میاں افتخار نے کہا کہ ایک شخص کو خوش کرنے کی خاطر صوبے بھر کے مفادات کو داؤ پر لگانے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام معاملات بنی گالہ کے اشارے پر چلائے جا رہے ہیں،کپتان کے چہیتے کو نوازنے کیلئے غریب عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سیاسی انتشار حکمرانوں کو بہا لے جائے گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی تاہم محکمہ صحت کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے تمام گرفتار ڈاکٹروں کی رہائی مطالبہ کیا اور کہا کہ ڈاکٹر برادری کے مطالبات کے حل کیلئے ان کے ساتھ ہیں اور صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف میدان میں ہونگے۔