پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل اصل فریق کی شرکت کے بغیر ناممکن ہے، مذاکراتی عمل کی کامیابی یقینی بنانے کیلئے سیز فائر اور افغانستان حکومت کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے، مذاکرات میں آنے والے تعطل کا دورانیہ اہم ہے اس دوران افغان حکومت کی شمولیت یقینی بنانے کیلئے اقدامت کئے جانے چاہئیں،ان خیالات کا اظہار انہوں باچا خان مرکز پشاور میں ”افغانستان میں امن مذاکرات،پیچیدگیاں اور خطے پر ان کے اثرات“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے سابق ڈی آئی جی اختر علی شاہ، سابق وائس چانسلر باچا خان یونیورسٹی عبدالرحیم مروت، ڈاکٹر سہیل،ڈاکٹر خادم حسین اور منتظم باچا خان مرکز انجینئر اعجاز یوسفزئی نے بھی خطاب کیا، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی منظم سیاسی جماعت ہے اور اس کا اپنا آئین،منشور اور پلیٹ فارم موجود ہے اور اسی پلیٹ فارم کے ذریعے ہم نے ہمیشہ افغانستان کے حوالے سے اپنا مضبوط مؤقف دنیا کے سامنے رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل بارے شکوک و شبہات پہلے سے موجود تھے کیونکہ ان مذاکرات میں اصل فریق افغان حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک اعلان کے پیچھے جو عوامل موجود ہیں ان سے کوئی با خبر نہیں تاہم مذاکراتی عمل جلد از جلد شروع کیا جائے، تعطل سے معاملات جنگ کی جانب بڑھیں گے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں سے پختون دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بنتے آ رہے ہیں،امن مذاکرات کے آغاز سے امن کی امید نے جنم لیا تاہم بدقسمتی سے بات چیت میں تعطل سے معاملات آگے نہ بڑھ سکے، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اعلان کے پیچھے کیا مقاصد ہیں کوئی نہیں جانتا البتہ مذاکرات میں آنے والے بریک سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کا مذاکراتی عمل کا حصہ بننا ضروری ہے، ملک کی پالیسی حکومت کے ہاتھ میں ہے اور اسے کوئی ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا،انہوں نے واضح کیا کہ ہم ہر حال میں مذاکراتی عمل کے حق میں ہیں اور اسی مقصد کے تحت اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان 17ستمبر کو افغانستان کے دورے کے دوران امن کانفرنس میں پختونوں کی نمائندگی کریں گے،انہوں نے کہا کہ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ہوش سے کام لینا ہوگا، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع الیکشن کے دوران اپنے دورہ وزیرستان کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہو چکے ہیں اور ان کے کئی بڑے نام بھی واپس ان علاقوں تک پہنچ چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس کاروبار سے فوائد حاصل کرنے والے کبھی اس کے خاتمے کی سعی نہیں کر سکتے،میاں افتخار نے مزید کہا کہ کشمیر کا باب بند ہو چکا ہے جس کے بعد خطے میں ایٹمی جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ایسی صورتحال میں تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان حکومت کو پوری طرح اعتماد میں لے کر مذاکراتی عمل کا حصہ بنانا ہو گا، انہوں نے کہا کہ افغانستان کی آبادی کم اور معدنی دولت کے ذخائر بہت زیادہ ہیں انہی ذخائر کے پیش نظر کئی ممالک کی اس خطے پر نظر ہے،انہوں نے داعش کو مستقبل میں خطے کیلئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز اس حوالے سے گہری نظر رکھیں، انہوں نے کہا کہ ہم مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں یونکہ پاکستان اور افغانستان میں امن کا قیام پورے خطے کے مفاد میں ہے،