پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ گزشتہ6سال سے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن بدقسمتی سے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا نام و نشان تک نہیں ہے، مرکزی اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود بجلی کا خالص منافع نہیں مل رہا،پسماندہ اضلاع کیلئے فنڈز کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کے باعث ان اضلاع کے عوام کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پی کے22بونیر کے گاؤں سورا سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں محمد شفیع، مدار خان،مالک شاہ،سلیم الحق، حامد الحق،نیاز کرم،ظہور الحق اور حوالدار خان نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، سردار حسین بابک نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی پختونوں کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے اور عوام کے حقوق کیلئے ہمیشہ سے کمر بستہ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عوام کی حکمرانی سلب کر کے مخصوص لوگوں کو اقتدار حوالے کر دیا گیا جس کے باعث صوبہ مالی و انتظامی طور پر بدھالی کا شکار ہو چکا ہے، انہوں نے ترقیاتی کاموں کا نام و نشان تک نہیں جبکہ پسماندہ اضلاع کیلئے فنڈز کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے سے ان علاقوں میں ترقی کا عمل رک چکا ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کو بجلی منافع کی ادائیگی میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے اور صوبائی حکومت اس میں برابر کی شریک ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کے ساتھ وفاق کا رویہ افسوس ناک ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ بجلی،تیل اور گیس جیسے قدرتی ذرائع کی پیداوار کے حوالے سے بھی مرکزی حکومت امتیازی سلوک کر رہی ہے،جبکہ صوبے میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر زندہ درگور کر دیا گیا ہے صوبے کے تمام کارخانے بند ہیں،مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ وفاق صوبائی حکومت کی درخواستیں ردی کی ٹوکری کی نذر کر رہی ہے اور وفاقی بجٹ میں صوبے کو اس کے حصے سے محروم کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام با شعور ہیں اور ان کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی،سردار بابک نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام مرکزی حکومت کے امتیازی سلوک پر حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تاکہ بجلی کے خالص منافع اور وفاقی بجٹ میں صوبے کا حصہ یقینی بنایا جا سکے۔