پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اسلامی ممالک کا بھارت کی طرف جھکاؤ پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے، سلیکٹڈ وزیر اعظم نے دنیا بھر میں بھکاری بن کر ملک کا تشخص داؤ پر لگا دیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونی کونسل مایار مردان میں عبید اللہ مایار کی رہائشگاہ پر پارٹی عہدیداروں و کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں خارجہ محاذ پر ملک ناکام ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے جسے کوئی دوسرا ملک اہمیت نہیں دیتا،انہوں نے کہا کہ سفاتکاری ناکام ہو چکی ہے سلیکٹڈ وزیر اعظم خیراتی جہاز پر خوش ہو کر قومی معاملات پر سمجھوتہ کر لیتا ہے،انہوں نے کہا کہ امریکہ پہنچنے پر کپتان اور مودی کے پروٹوکول کو پوری دنیا نے دیکھا،عزت انہی ممالک کی ہوتی ہے جو خود مختار ہوں،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ٹرمپ مودیہاتھ ملا کر ایکدوسرے کی تعریفیں کر رہے ہیں،امریکی صدر سمیت دیگر ممالک بالخصوص اسلامی ملکوں کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت کے پاس خارجہ پالیسی نہیں اور وزیر اعظم کشکول اٹھائے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کر رہا ہے، افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن اور ترقی افغانستان کے امن اور ترقی سے مشروط ہے، وہاں حالات خراب ہوں تو اس کے منفی اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا، انہوں نے کہا کہ امریکہ یکطرفہ طور پر مذاکرات کر رہا ہے، افغانستان کے مسئلے کا حل طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات سے نکل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر مذاکراتی عمل بے نتیجہ رہے گا، انہوں نے کہا کہ روس،چین اور امریکہ افغان امن مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کریں،اور ان مذاکرات کا جلد آغاز یقینی بنایا جائے۔