پشاور(جنرل رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تاجر برادری کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ایک سال گزرنے کے باوجود پالیسیاں ناکام سے ناکام ترین ہوتی جارہی ہیں۔ حکومت کی نظریں صرف ٹیکس وصولی پر ہیں لیکن عوام کیلئے صرف تماشہ دیکھو کی نصیحت کی جارہی ہے۔ گڑمنڈی پشاور میں تاجربرادری کے انتخابات میں کامیابی کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے میاں افتخارحسین نے تاجر برادری کے مسائل پر ان سے تفصیلی گفتگو کے بعد کہا کہ عام تاجر کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے اور پورے ملک میں اس وقت کاروباری حضرات خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کے کاروبار میں نقصان ہی نقصان ہے۔ تمام ملک اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے تاجربرادری کے مسائل کے حل کیلئے پالیسی کی بجائے حکومت انہیں نقصان برداشت کرنے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس دینے کی نصیحت کرتی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو ایک سال کا عرصہ گزرگیا اور اس دوران تاجر برادری سمیت عوام کو مہنگائی کے ایک ایسے طوفان میں دھکیل دیا گیا ہے جس سے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں اگر اس ناکام حکومت کو ایک اور سال بھی دیا گیا تو خدا جانے صورتحال کس نہج پر پہنچیں گے۔ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کے دوران تاجر کمیونٹی کو صرف نقصان ہی نقصان ہوا ہے لیکن حکومت کے پاس کوئی جامع پالیسی نہیں، اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بیانات سے ایسا لگ رہا ہے کہ ان کے پاس مسائل کا نہ تو کوئی حل ہے اور نہ ہی وہ اس بارے سنجیدہ نظر آرہے ہیں۔حکومت کی نظر صرف اٹھارویں ترمیم کے خاتمے پر تھی جس میں وہ ناکام ہوچکے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسی اٹھارویں ترمیم کیخلاف فیصلے کئے جارہے ہیں جس نے اس ملک کی جمہوریت کو مزید مضبوط کیا ہے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان پائے جانیوالی احساس محرومی کو ختم کیا لیکن اب وہی 18ویں ترمیم کو صرف کاغذات کے حد تک محدود کردیا گیا ہے۔ حکومت کی ناکامی کا حال یہ ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے بیان دیا کہ وہ صوبے کو ان کا جائز حق دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ ہم انہیں خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر مرکزی حکومت انکار کرے گا تو کیا عوام چپ بیٹھیں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ مذمت سے مزاحمت تک کا ہر راستہ اپنایا جائیگا اور کسی کو بھی دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے۔ وزیراعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو غیرضروری بیانات دینے کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی وگرنہ وہ دن دور نہیں جب بڑے سے بڑا سرمایہ کار اپنے ہی ملک میں پیسہ لگانے سے کترانے لگے گا اور یہاں صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو یا تو باہر جانے کی سکت نہیں رکھتے یا ان کے پاس دوسرا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ حکومت کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ گنتی کے دن رہ چکے ہیں اور عوامی قوت کے سامنے وہ بے بس نظر آئیں گے